عمران خان سے جیل میں ملاقات سے متعلق عدالت نے بڑا حکم جاری کر دیا

عمران خان سے جیل میں ملاقات سے متعلق عدالت نے بڑا حکم جاری کر دیا

سپریم کورٹ میں بانی پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان سے جیل میں ملاقات نہ کرانے سے متعلق مبینہ توہینِ عدالت کیس کی سماعت کے دوران وفاق اور پنجاب حکومت نے جامع رپورٹ جمع کرانے کے لیے مہلت طلب کر لی جس پر عدالت نے تین ہفتوں میں تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے میں پاکستان تحریکِ انصاف کی 100 سے زائد درخواستیں زیرِ غور ہیں اس لیے تمام معاملات کا جائزہ لے کر ایک جامع اور تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرانا چاہتے ہیں انہوں نے اس مقصد کے لیے مزید وقت دینے کی استدعا کی۔

عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے حکومت کو تین ہفتوں میں مکمل رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت جاری کر دی۔

سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب وسیم ممتاز نے بعض درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے متفقہ حکم کے خلاف اپیل دائر نہیں کی جا سکتی۔

اس موقع پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ عدالت کو یہ بھی بتایا جائے کہ اب تک کتنی ملاقاتیں ہوئیں کب ہوئیں اور عدالتی احکامات پر کس حد تک عمل درآمد کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے جامع اور مکمل رپورٹ پیش کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں:آج رات پیٹرول پھر مہنگا ؟ عوام کے لیے ایک اور بڑا جھٹکا،اندر کی خبر آ گئی

جسٹس محمد علی مظہر نے مزید ریمارکس دیے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کو یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو نہیں کی جائے گی تاہم بعد میں میڈیا ٹاک کی گئی انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اس اقدام سے عدالت کو دی گئی یقین دہانی کی خلاف ورزی نہیں ہوئی؟

بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے مؤقف اختیار کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم متفقہ نہیں تھا اس لیے اس کے خلاف اپیل دائر کی گئی۔

اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر حکم متفقہ نہیں تھا تو پہلے ہائی کورٹ میں نظرِ ثانی کی درخواست دائر کی جا سکتی تھی عدالت نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ عدالتی حکم کے خلاف اپیل کا باقاعدہ فورم موجود تھا اسی لیے اپیل دائر کی گئی۔

سلمان اکرم راجہ نے مؤقف اختیار کیا کہ ہائی کورٹ نے غلط طور پر فریقین کے اتفاقِ رائے کو اپنے حکم کا حصہ بنایا جس پر اپیل دائر کرنا ضروری تھا۔

عدالت نے تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد وفاقی اور پنجاب حکومت کو تین ہفتوں میں جامع رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت دیتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

editor

Related Articles