مصر کی عدالت نے منشیات سے متعلق ایک سنگین مقدمے میں معروف ٹی وی میزبان سارہ خلیفہ سمیت 12 افراد کو سزائے موت سنا دی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق 39 سالہ سارہ خلیفہ اور دیگر ملزمان پر منظم مجرمانہ گروہ تشکیل دینے، منشیات کی تیاری کے لیے خام مال حاصل کرنے، اسمگلنگ کے مقصد سے منشیات تیار کرنے اور بغیر لائسنس اسلحہ و گولہ بارود رکھنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
عدالت نے مقدمے میں سزائے موت سنانے سے قبل مصری قانون کے تحت ضروری کارروائی مکمل کی اور مفتی اعظم مصر سے شرعی رائے بھی حاصل کی۔ تاہم عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کا حق موجود ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کارروائی کے دوران حکام نے 750 کلوگرام سے زائد منشیات اور منشیات کی تیاری میں استعمال ہونے والا خام مال قبضے میں لیا۔ حکام نے منشیات تیار کرنے کے لیے استعمال ہونے والے 2 اپارٹمنٹس سے لیبارٹری کا سامان، غیر قانونی اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا۔
دوسری جانب عدالت نے سارہ خلیفہ اور دیگر ملزمان کو ایک نوجوان کے اغوا اور اس پر حملے سے متعلق الگ مقدمے میں بھی 5 سال قید کی سزا سنائی ہے۔