تیل کی بڑھتی قیمتوں کو بریک ، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گر گئیں

تیل کی بڑھتی قیمتوں کو بریک ، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گر گئیں

عالمی منڈی میں منگل کے روز خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی تاہم مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کی دھمکی اور جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششوں کے باعث مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

بین الاقوامی تجارتی اعداد و شمار کے مطابق برینٹ خام تیل 35 سینٹ کمی کے بعد 88.87 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل ستمبر کی ترسیل کے لیے 82.47 ڈالر فی بیرل پر تقریباً مستحکم رہا۔ دونوں عالمی معاہدے گزشتہ روز ایک ماہ سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح سے نیچے آگئے۔

 قیمتوں میں کمی کی بنیادی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی سے متعلق سفارتی رابطے ہیں، تاہم خطے میں جاری فوجی کارروائیوں نے سرمایہ کاروں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر رکھا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بجلی کا بل کب آئے گا؟ حکومت نے صارفین کے لیے نیا شیڈول جاری کر دیا

دوسری جانب ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں توانائی کی ترسیل اور اہم تجارتی راستوں کے متاثر ہونے کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ دھمکیاں عملی شکل اختیار کرتی ہیں تو عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں دوبارہ تیزی آ سکتی ہے۔

ادھر ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ ایران کو ثالث ممالک کی جانب سے 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز موصول ہوئی ہے۔ اس تجویز کا مقصد 17 جون کو ہونے والے عبوری معاہدے کو برقرار رکھنا اور 28 فروری سے جاری ایران۔امریکا جنگ کے مستقل خاتمے کی راہ ہموار کرنا ہے۔

editor

Related Articles