امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر گزشتہ ماہ جاری ہونے والے ایک سروے کے نتائج شیئر کیے ہیں، جس کے مطابق امریکی عوام کی واضح اکثریت نے ایران کے ساتھ جنگ کا خاتمہ اور امن معاہدے کی حمایت کر دی ہے۔
سروے کے اعداد و شمار
سروے کے دوران امریکی ووٹرز سے سوال پوچھا گیا کہ ‘کیا آپ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے امن معاہدے کی حمایت کرتے ہیں یا مخالفت؟’ جس پر ووٹرز کے مثبت ردعمل نے اہم حقائق کو جنم دیا ہے۔
رجسٹرڈ ووٹرز
60 فیصد نے امن معاہدے کی حمایت کی، 23 فیصد نے مخالفت کی، جبکہ 15فیصد افراد نے کسی رائے کا اظہار نہیں کیا۔
62 فیصد افراد نے امن معاہدے کی حمایت میں ووٹ دیا، 24 فیصد نے مخالفت کی اور 13 فیصد نے کوئی مؤقف اختیار نہیں کیا۔
معاہدے کی اہم شرائط و تفصیلات
سروے کی تفصیلات کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخطوں سے طے پانے والی ’مفاہمتی یادداشت‘ میں درج ذیل نکات شامل کیے گئے ہیں
آبنائے ہرمز
عالمی معیشت اور تیل کی نقل و حمل کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ‘آبنائے ہرمز’ کو مکمل طور پر کھول دیا جائے گا۔
پابندیاں اور ایٹمی گفتگو
ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں اٹھانے اور ایرانی ایٹمی پروگرام پر تفصیلی مذاکرات کے لیے 2 ماہ کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔
ایٹمی عدم پھیلاؤ
معاہدے کی سب سے اہم شرط کے مطابق ایران پر واضح پابندی ہوگی کہ وہ ایٹمی ہتھیار تیار یا حاصل نہیں کرے گا۔
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دہائیوں پر محیط ہے۔ سابقہ دورِ حکومت میں ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے ساتھ عالمی طاقتوں کے ایٹمی معاہدے سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے ’کڑی اقتصادی پابندیاں‘عائد کی تھیں، جس کے بعد خطے میں کشیدگی انتہائی بلندی پر پہنچ گئی تھی۔
خاص طور پر آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمد و رفت متاثر ہونے سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا۔
موجودہ صورتحال میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سفارتی راستے کا انتخاب اور عوامی رائے کو سامنے لانا، امریکی خارجہ پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کی نشان دہی کرتا ہے۔
سروے کے یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ امریکی عوام اب مشرقِ وسطیٰ میں کسی نئی طویل اور مہنگی جنگ میں الجھنے کے حامی نہیں ہیں۔
ووٹرز کی اکثریت کی جانب سے امن کی حمایت صدر ٹرمپ کے لیے ایک بڑا سیاسی کارڈ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے وہ خود کو ایک ‘جنگ جو’ کے بجائے ‘امن قائم کرنے والے رہنما’ کے طور پر پیش کر سکتے ہیں۔
اگرایران اور امریکا کے درمیان یہ ’مفاہمتی یادداشت‘ پائیدار ثابت ہوتی ہے، تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں امن قائم ہوگا بلکہ عالمی معیشت اور خصوصاً توانائی کی فراہمی میں بھی استحکام آئے گا۔
تاہم 2 ماہ کے مقررہ وقت میں ایٹمی پروگرام پر تہران کے ساتھ تفصیلی اتفاقِ رائے حاصل کرنا واشنگٹن کی سفارت کاری کے لیے ایک بڑا امتحان ہوگا۔