موریطانیہ کے ساحل کے قریب یورپ جانے کی کوشش کرنے والے پناہ گزینوں اور تارکین وطن کی کشتی کو پیش آنے والے ایک المناک حادثے میں کم از کم 143 افراد ہلاک یا لاپتا ہو گئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) نے ایک جاری بیان میں تصدیق کی ہے کہ یہ دردناک واقعہ 14 سے 18 جولائی کے دوران پیش آیا۔ اسی عرصے کے دوران موریطانیہ کے ساحل کے قریب 3 مختلف امدادی کارروائیوں کے دوران خراب کشتیوں سے 387 افراد کو بحفاظت بچایا بھی گیا۔
ادارے کے مطابق متاثرہ کشتی گیمبیا کے علاقے بافولوٹو سے روانہ ہوئی تھی اور تقریباً 25 روز تک کھلے سمندر میں بھٹکنے کے بعد 18 جولائی کو ریسکیو کی گئی۔
جب یہ کشتی موریطانیہ کی بندرگاہ نواذیبو پہنچی تو اس میں متعدد لاشیں اور صرف 38 افراد زندہ بچے۔ دوسری جانب موریطانیہ کے ساحلی محافظوں کا کہنا ہے کہ کشتی میں کل 160 افراد سوار تھے اور روانگی کے کچھ عرصے بعد ہی ایندھن ختم ہو جانے کے باعث 122 افراد لاپتا ہو گئے۔
— The Right News, Right Now. (@BradPorcellato) July 21, 2026
یو این ایچ سی آر کے ترجمان میٹ سالٹ مارش نے جنیوا میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ زندہ بچ جانے والوں میں 2 ایسے بچے بھی شامل ہیں جن کے تمام اہل خانہ اس خوفناک سفر کے دوران لقمہ اجل بن گئے۔ دونوں بچوں کو فوری طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ترجمان کے مطابق 14 جولائی کو موریطانیہ پہنچنے والی ایک اور کشتی میں بھی 1 شخص جان کی بازی ہار گیا۔ ہلاک ہونے والے تمام افراد کا تعلق افریقہ کے صحرائے اعظم کے جنوب میں واقع مختلف ممالک سے تھا، تاہم ان کی اموات کی حتمی وجوہات کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔
موریطانیہ کا ساحل بحرِ اوقیانوس کے اس راستے پر ایک اہم نقطہ آغاز ہے جہاں سے ہر سال ہزاروں غیر قانونی تارکین وطن اسپین کے زیرِ انتظام کینری جزائر کے ذریعے یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔
یو این ایچ سی آر نے کینری جزائر کے اس سمندری راستے کو دنیا کے خطرناک ترین راستوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔ انتہائی طویل فاصلے، گنجائش سے زیادہ مسافروں کی موجودگی اور غیر محفوظ یا خستہ حال کشتیوں کی وجہ سے اس راستے پر حادثات اور اموات کی شرح انتہائی بلند ہے۔
اگرچہ حال ہی میں یورپی یونین کی مالی معاونت سے موریطانیہ میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائیوں میں تیزی آئی ہے اور وہاں سے جانے والوں کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، تاہم حقوقِ انسانی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ان سخت اقدامات کے نتیجے میں تارکین وطن اور اسمگلرز اب اس سے بھی زیادہ طویل، پیچیدہ اور خطرناک سمندری راستے اختیار کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
سختی کے الٹے اثرات
یورپی یونین کی جانب سے ساحلی خطوں کی سخت نگرانی اور مالی مدد سے تارکین وطن کا سفر رکا نہیں ہے، بلکہ اور زیادہ خطرناک ہو گیا ہے۔ جب آسان راستے بند کر دیے جاتے ہیں تو تارکین وطن اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر مزید طویل اور غیر محفوظ راستے منتخب کرتے ہیں، جس سے جانی نقصان کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
علاقائی اور معاشی بحران
صحرائے اعظم کے جنوب میں واقع افریقی ممالک میں شدید غربت، بے روزگاری، عدم استحکام اور بنیادی سہولیات کا فقدان لوگوں کو اس قدر مجبور کر دیتا ہے کہ وہ موت کا خطرہ مول لے کر بھی نکل کھڑے ہوتے ہیں۔
اقوام متحدہ کا یہ موقف بالکل درست ہے کہ صرف بارڈر کنٹرول سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ مقامی آبادی کو تعلیم، روزگار اور معاشی مواقع دینا ضروری ہے۔
انسٹنٹ کنٹرول بمقابلہ مستقل حل
جب تک افریقی ممالک کی معاشی حالت بہتر بنانے اور انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کو توڑنے کے لیے پائیدار حکمت عملی نہیں بنائی جاتی، تب تک اس قسم کے خوفناک سمندری حادثات اور انسانی جانوں کا ضیاع روکنا ممکن نہیں ہوگا۔