سرکاری محکموں میں بھرتیوں پر پابندی، نیا حکم جاری

سرکاری محکموں میں بھرتیوں پر پابندی، نیا حکم جاری

وفاقی حکومت نے مالی نظم و ضبط کو مزید مضبوط بنانے اور غیر ضروری سرکاری اخراجات پر قابو پانے کے لیے مالی سال 2026-27 کے دوران بھی کفایت شعاری پالیسی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارتِ خزانہ نے اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے تحت مختلف وزارتوں، ڈویژنوں اور وفاقی اداروں کے لیے سخت مالی پابندیاں برقرار رہیں گی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق تین سال یا اس سے زائد عرصے سے خالی پڑی تمام وفاقی سرکاری آسامیوں کو ختم کر دیا جائے گا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ایسی آسامیوں کو برقرار رکھنے سے سرکاری ڈھانچے پر غیر ضروری مالی بوجھ پڑتا ہے، اس لیے ان کی مستقل بنیادوں پر خاتمہ کیا جا رہا ہے۔

کفایت شعاری پالیسی کے تحت نئی آسامیوں کی تخلیق پر بھی پابندی برقرار رہے گی۔ کسی بھی وزارت یا ادارے کو نئی پوسٹیں بنانے کے لیے خصوصی حکومتی منظوری درکار ہوگی تاکہ سرکاری ملازمین کی تعداد میں غیر ضروری اضافہ نہ ہو اور اخراجات کو قابو میں رکھا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:بجلی کا بل کب آئے گا؟ حکومت نے صارفین کے لیے نیا شیڈول جاری کر دیا

حکومت نے سرکاری گاڑیوں کی خریداری پر عائد پابندی بھی برقرار رکھی ہے۔ وفاقی وزارتوں، ڈویژنوں اور ماتحت اداروں کو نئی گاڑیاں خریدنے کی اجازت نہیں ہوگی، سوائے ان معاملات کے جہاں قومی سلامتی یا انتہائی ضروری سرکاری خدمات کے لیے خصوصی منظوری حاصل کی جائے۔

ذرائع کے مطابق کفایت شعاری اقدامات کے تحت غیر ضروری سرکاری اخراجات  تقریبات  تزئین و آرائش، لگژری اشیاء کی خریداری اور دیگر غیر ترقیاتی اخراجات پر بھی سخت نگرانی جاری رہے گی۔ وزارتِ خزانہ تمام وفاقی اداروں کو ہدایت کرے گی کہ دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے اپنے مالی امور چلائیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد مالیاتی خسارے میں کمی، سرکاری وسائل کا مؤثر استعمال، قرضوں پر انحصار کم کرنا اور معیشت کو مستحکم بنانا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے فیصلوں سے غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی آئے گی، تاہم سرکاری ملازمتوں کے خواہشمند نوجوانوں کے لیے نئی بھرتیوں کے مواقع محدود رہ سکتے ہیں۔

editor

Related Articles