حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمتوں میں بھی بڑا اضافہ کر دیا

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمتوں میں بھی بڑا اضافہ کر دیا

  مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ کے اثرات پاکستان میں بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ وفاقی حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اب مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جس سے صارفین پر مہنگائی کا ایک اور بوجھ پڑ گیا ہے۔

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق بدھ کی شب مٹی کے تیل کی قیمت میں 7 روپے 80 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ اضافے کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت 297 روپے 17 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے جبکہ اس سے قبل یہ 289 روپے 37 پیسے فی لیٹر میں دستیاب تھا۔

 یہ بھی پڑھیں :حکومت نے پیٹرول کی قیمت بڑھا کر عوام کو ریلیف سے کیوں محروم کیا ؟ بڑی وجہ سامنے آ گئی

اوگرا کے مطابق مٹی کے تیل کی نئی قیمت صرف 23 جولائی کے لیے نافذ العمل ہوگی جبکہ آئندہ قیمتوں کا اعلان دوبارہ جمعرات کی رات کیا جائے گا۔

حکومتی ذرائع کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ ردوبدل عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے اور بین الاقوامی حالات کے باعث کیا جا رہا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک دوسرے کو دی جانے والی دھمکیوں اور خطے میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال نے عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ میں رکھا ہوا ہے جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

  مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہی اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بلند رہیں تو پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے جس کے اثرات ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :حکومت نے پیٹرول سستا کرنے کے ساتھ مٹی کا تیل مہنگا کر دیا، فی لیٹر کتنا اضافہ؟

مٹی کے تیل کی قیمت میں تازہ اضافے کے بعد بالخصوص ان علاقوں کے عوام مزید متاثر ہوں گے جہاں گھریلو استعمال، حرارتی ضروریات اور دیگر مقاصد کے لیے اب بھی مٹی کے تیل پر انحصار کیا جاتا ہے۔ عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عالمی منڈی کی صورتحال کے باوجود مہنگائی کے اثرات کم کرنے کے لیے مؤثر ریلیف اقدامات کیے جائیں۔

editor

Related Articles