وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن ڈی سی میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ اعلیٰ سطح کے اجلاسوں کے دوران پاکستان کی مجموعی میکرو اکنامک کارکردگی اور جاری اصلاحاتی پروگرام کی پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ ملاقاتوں میں فنڈ کی جانب سے پاکستان میں جاری معاشی اصلاحات اور حکومتی عزم کا اعتراف کیا گیا ہے۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف کی فرسٹ ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر ڈین کاٹز، ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر نائجل کلارک، ڈائریکٹر مڈل ایسٹ اینڈ سینٹرل ایشیا ڈیپارٹمنٹ جہاد ازعور اور پاکستان کے لیے مشن چیف ایوا پیٹرووا سے ملاقاتیں کیں۔
یہ بھی پڑھیں:ہر روز پیٹرول مہنگا یا سستا ہوگا؟ مشیر وزیر خزانہ نے اہم پیش رفت بتا دی
اجلاس کے دوران وسیع تر ’ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی‘ (ای ای ایف) اور ’ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی‘ (آر ایس ایف) کے تحت پاکستانی معاشی اصلاحات کا جائزہ لیا گیا۔
معاشی بہتری کا اجاگر ہونا
وزیر خزانہ نے ملک کے بہتر ہوتے ہوئے مالیاتی اور بیرونی توازن، ٹیکس ہدف کے حصول، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری، ریکارڈ ترسیلاتِ زر اور کرنٹ اکاؤنٹ کی بہتر ہوتی صورتحال کو آئی ایم ایف حکام کے سامنے پیش کیا۔
Yesterday, I met with Pakistan’s Federal Minister for Finance and Revenue Muhammad Aurangzeb. I welcomed Pakistan’s progress in restoring macroeconomic stability and advancing key economic reforms. We discussed the importance of sustaining this reform momentum to promote durable… pic.twitter.com/EvpwhrOofY
— Treasury Secretary Scott Bessent (@SecScottBessent) July 22, 2026
اہم اصلاحاتی شعبے
گفتگو کے دوران ٹیکس اصلاحات، توانائی کے شعبے کی بحالی، نجی کاری، ٹیرف کی ازسرنو ترتیب، قرضوں کے انتظام اور پاکستان کی عالمی کیپٹل مارکیٹ میں واپسی پر بات چیت کی گئی۔
پائیدار ترقیاتی اہداف
فریقین کے درمیان انسانی وسائل کی ترقی، معیشت میں خواتین کی شمولیت، آبادیاتی چیلنجز، ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی اور برآمدات پر مبنی نجی شعبے کی ترقی پر تبادلہ خیال ہوا۔
محمد اورنگزیب نے آئی ایم ایف کے تعاون کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مالیاتی نظم و ضبط، پالیسی کی ساکھ اور طویل مدتی اقتصادی تبدیلیوں کے عزم کو دہرایا۔
امریکی ایگزِم بینک کے سربراہ سے ملاقات
قبل ازیں وزیر خزانہ نے امریکی ’ایکسپورٹ امپورٹ بینک‘ (ایگزِم بینک) کے صدر اور چیئرمین جان جووانووچ سے ملاقات کی۔
مزید پڑھیں:کارپوریٹ سیکٹر کے لیے تاریخی ریلیف دیا گیا، سپر ٹیکس میں نمایاں کمی کی، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
تجارتی توسیع
اس ملاقات میں پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارتی تعاون بڑھانے، طویل مدتی منصوبوں کی مالی اعانت، اور زرعی اجناس (مثلاً کپاس اور سویا بین) سمیت ہائیڈرو کاربنز کی تجارت پر بات ہوئی۔
اسٹریٹجک فریم ورک
ایگزِم بینک کے تجویز کردہ فریم ورک کے تحت امریکی مالی اعانت، ٹیکنالوجی، اور آلات کی فراہمی کو آسان بنایا جائے گا۔ اس حوالے سے اسٹریٹجک فریم ورک پر ستمبر 2026 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر دستخط کیے جانے کی توقع ہے۔
سٹیبلائزیشن فنڈ کی درخواست
وزیر خزانہ نے اپنے امریکی ہم منصب اسکاٹ بیسنٹ سے ملاقات کے دوران پاکستان کی معیشت کو استحکام دینے کے لیے 10 ارب ڈالر کا ‘ایکسچینج سٹیبلائزیشن سپورٹ فسیلٹی’ فراہم کرنے کی درخواست کی۔
ریفیائنری سیکٹر کی جدید کاری
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ’ہانی ویل ٹیکنالوجیز‘ سے ملاقات میں پاکستان کے ریفائنری سیکٹر کی جدید کاری اور توسیع پر بات چیت کی گئی۔

