آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں اہم پیشرفت، پاکستان کی معاشی بہتری کا اعتراف، امریکا کے ساتھ ٹیکنالوجی اور مالیاتی تعاون بڑھے گا، محمد اورنگزیب

آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں اہم پیشرفت، پاکستان کی معاشی بہتری کا اعتراف، امریکا کے ساتھ ٹیکنالوجی اور مالیاتی تعاون بڑھے گا، محمد اورنگزیب

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن ڈی سی میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ اعلیٰ سطح کے اجلاسوں کے دوران پاکستان کی مجموعی میکرو اکنامک کارکردگی اور جاری اصلاحاتی پروگرام کی پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ ملاقاتوں میں فنڈ کی جانب سے پاکستان میں جاری معاشی اصلاحات اور حکومتی عزم کا اعتراف کیا گیا ہے۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف کی فرسٹ ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر ڈین کاٹز، ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر نائجل کلارک، ڈائریکٹر مڈل ایسٹ اینڈ سینٹرل ایشیا ڈیپارٹمنٹ جہاد ازعور اور پاکستان کے لیے مشن چیف ایوا پیٹرووا سے ملاقاتیں کیں۔

یہ بھی پڑھیں:ہر روز پیٹرول مہنگا یا سستا ہوگا؟ مشیر وزیر خزانہ نے اہم پیش رفت بتا دی

اجلاس کے دوران وسیع تر ’ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی‘ (ای ای ایف) اور ’ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی‘ (آر ایس ایف) کے تحت پاکستانی معاشی اصلاحات کا جائزہ لیا گیا۔

معاشی بہتری کا اجاگر ہونا

 وزیر خزانہ نے ملک کے بہتر ہوتے ہوئے مالیاتی اور بیرونی توازن، ٹیکس ہدف کے حصول، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری، ریکارڈ ترسیلاتِ زر اور کرنٹ اکاؤنٹ کی بہتر ہوتی صورتحال کو آئی ایم ایف حکام کے سامنے پیش کیا۔

اہم اصلاحاتی شعبے

گفتگو کے دوران ٹیکس اصلاحات، توانائی کے شعبے کی بحالی، نجی کاری، ٹیرف کی ازسرنو ترتیب، قرضوں کے انتظام اور پاکستان کی عالمی کیپٹل مارکیٹ میں واپسی پر بات چیت کی گئی۔

پائیدار ترقیاتی اہداف

فریقین کے درمیان انسانی وسائل کی ترقی، معیشت میں خواتین کی شمولیت، آبادیاتی چیلنجز، ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی اور برآمدات پر مبنی نجی شعبے کی ترقی پر تبادلہ خیال ہوا۔

محمد اورنگزیب نے آئی ایم ایف کے تعاون کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مالیاتی نظم و ضبط، پالیسی کی ساکھ اور طویل مدتی اقتصادی تبدیلیوں کے عزم کو دہرایا۔

امریکی ایگزِم بینک کے سربراہ سے ملاقات

قبل ازیں وزیر خزانہ نے امریکی ’ایکسپورٹ امپورٹ بینک‘ (ایگزِم بینک) کے صدر اور چیئرمین جان جووانووچ سے ملاقات کی۔

مزید پڑھیں:کارپوریٹ سیکٹر کے لیے تاریخی ریلیف دیا گیا، سپر ٹیکس میں نمایاں کمی کی، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

تجارتی توسیع

اس ملاقات میں پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارتی تعاون بڑھانے، طویل مدتی منصوبوں کی مالی اعانت، اور زرعی اجناس (مثلاً کپاس اور سویا بین) سمیت ہائیڈرو کاربنز کی تجارت پر بات ہوئی۔

اسٹریٹجک فریم ورک

ایگزِم بینک کے تجویز کردہ فریم ورک کے تحت امریکی مالی اعانت، ٹیکنالوجی، اور آلات کی فراہمی کو آسان بنایا جائے گا۔ اس حوالے سے اسٹریٹجک فریم ورک پر ستمبر 2026 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر دستخط کیے جانے کی توقع ہے۔

سٹیبلائزیشن فنڈ کی درخواست

وزیر خزانہ نے اپنے امریکی ہم منصب اسکاٹ بیسنٹ سے ملاقات کے دوران پاکستان کی معیشت کو استحکام دینے کے لیے 10 ارب ڈالر کا ‘ایکسچینج سٹیبلائزیشن سپورٹ فسیلٹی’ فراہم کرنے کی درخواست کی۔

ریفیائنری سیکٹر کی جدید کاری

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ’ہانی ویل ٹیکنالوجیز‘ سے ملاقات میں پاکستان کے ریفائنری سیکٹر کی جدید کاری اور توسیع پر بات چیت کی گئی۔

پاکستان اور امریکی تعلقات و آئی ایم ایف پروگرام

پاکستان اس وقت مالیاتی استحکام کے لیے آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے تحت معاشی اصلاحات پر عمل پیرا ہے۔ حکومتِ پاکستان نے پچھلے کچھ عرصے میں ٹیکس نیٹ بڑھانے اور مالیاتی خسارے کو کم کرنے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارتی مذاکرات اس وقت مزید اہم ہو گئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2 اپریل 2025 کو ’انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ‘ (آئی ای ای پی اے) کے تحت عالمی ٹیرف کا اعلان کیا تھا، جس میں پاکستانی برآمدات پر ابتدائی طور پر 29 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا تھا۔

بعد ازاں جولائی 2025 میں پاکستانی وفد کے کامیاب مذاکرات کے نتیجے میں امریکی حکام نے اس مجوزہ ٹیرف کو 29 فیصد سے کم کر کے 19 فیصد تک کر دیا تھا۔ وزیر خزانہ کا موجودہ دورہ اسی سلسلہ جنبانی کی ایک کڑی ہے۔

واشنگٹن دورے کے پاکستان کی معیشت پر اثرات

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا موجودہ دورہ واشنگٹن پاکستان کی معاشی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

اعتماد کی بحالی

 آئی ایم ایف کے ساتھ اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں اور پیشرفت کے اعتراف سے عالمی مالیاتی اداروں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا پاکستان کی معاشی پالیسیوں پر اعتماد بڑھے گا۔

مزید پڑھیں:تنخواہیں اور پنشن کتنی بڑھائی جائے؟ وزیراعظم شہباز شریف نے وزیر خزانہ کو ہدایت دیدی

امریکا کے ساتھ نیا تجارتی باب

امریکی ایگزِم بینک کا فریم ورک اور زرعی و توانائی کی مصنوعات کی تجارت میں اضافہ پاکستان کو روایتی امداد پر انحصار کے بجائے ‘تجارت، نہ کہ امداد’ کے اصول پر آگے بڑھنے میں مدد دے گا۔

ٹیرف چیلنج پر قابو

امریکی ٹیرف کو 29 فیصد سے 19 فیصد پر لانا ایک بڑی سفارتی کامیابی تھی اور اب اس میں مزید نرمی کے ساتھ 10 ارب ڈالر کے سٹیبلائزیشن فنڈ کا حصول معاشی پائیداری کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔

حتمی جائزہ

 اگر ستمبر 2026 تک ایگزِم بینک کے ساتھ فریم ورک حتمی شکل اختیار کر لیتا ہے تو اس سے ملک میں براہِ راست امریکی سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کی آمد تیز ہوگی۔

Related Articles