ہر روز پیٹرول مہنگا یا سستا ہوگا؟ مشیر وزیر خزانہ نے اہم پیش رفت بتا دی

ہر روز پیٹرول مہنگا یا سستا ہوگا؟ مشیر وزیر خزانہ نے اہم پیش رفت بتا دی

وفاقی حکومت نے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے موجودہ 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں میں ردوبدل کے ممکنہ نظام پر غور شروع کر دیا ہے۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ اس نئے ماڈل کے فوائد، نقصانات اور عوام پر اس کے اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھ کر کیا جائے گا۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر عالمی منڈی کے مطابق تبدیل ہوتی ہیں جس سے قیمتوں کے تعین میں شفافیت بڑھتی ہے غیر یقینی صورتحال کم ہوتی ہے اور مارکیٹ میں قیاس آرائیوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی پالیسی کا مقصد قیمتوں کے تعین میں حکومتی مداخلت کو بتدریج کم کرنا اور مارکیٹ کو زیادہ فعال کردار دینا ہے تاکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی منڈی کے رجحانات کے مطابق رہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پیٹرول کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ؟ آج اہم فیصلہ، حکومت کیا کرنے جا رہی؟

خرم شہزاد کے مطابق اگر حکومت مصنوعی طور پر قیمتوں کو ایک ہی سطح پر برقرار رکھنے کی کوشش کرے تو بعض اوقات سپلائرز کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کے نتیجے میں وہ سپلائی محدود کر دیتے ہیں اور مارکیٹ میں قلت پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ روزانہ قیمتوں کے تعین کا نظام نافذ کرنے سے قبل اس کے معاشی، انتظامی اور عوامی اثرات کا مکمل جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ ایسا کوئی فیصلہ نہ کیا جائے جس سے صارفین یا مارکیٹ کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔

 اگر مستقبل میں یہ نظام نافذ ہوتا ہے تو عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ صارفین کو نسبتاً جلد مل سکے گا تاہم قیمتوں میں اضافے کی صورت میں عوام کو روزانہ کی بنیاد پر بڑھتے ہوئے نرخوں کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے اس نظام کے مثبت اور منفی دونوں پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لینا ضروری ہوگا۔

editor

Related Articles