قدرت کے حسین مناظر سے بھرپور قازقستان کے تیان شان پہاڑی سلسلے میں واقع کینڈی جھیل دنیا کے منفرد ترین قدرتی مقامات میں شمار کی جاتی ہے۔ اس جھیل کی سب سے نمایاں خصوصیت پانی سے باہر نظر آنے والے خشک درخت ہیں، جو پہلی نظر میں ایسے محسوس ہوتے ہیں جیسے الٹے اگ رہے ہوں۔
یہ پراسرار جھیل ہر سال ہزاروں سیاحوں، فوٹوگرافروں اور قدرتی مناظر سے دلچسپی رکھنے والوں کو اپنی جانب کھینچتی ہے۔
زلزلے کے بعد وجود میں آنے والی جھیل
میڈیا رپورٹس کے مطابق کینڈی جھیل 1911 میں آنے والے شدید زلزلے کے نتیجے میں وجود میں آئی۔ زلزلے سے پہاڑوں سے بڑی مقدار میں چٹانیں اور مٹی وادی میں آ گریں، جس سے دریا کا بہاؤ رک گیا اور قدرتی ڈیم بن گیا۔ بعد ازاں شدید بارشوں اور برف پگھلنے سے پانی وادی میں جمع ہونا شروع ہوا، جس کے نتیجے میں پورا جنگل زیرِ آب آ گیا اور ایک نئی جھیل وجود میں آگئی۔
کینڈی جھیل کی سب سے حیرت انگیز بات اس میں موجود سپروس درخت ہیں، جن کے خشک تنے آج بھی پانی کی سطح سے اوپر دکھائی دیتے ہیں۔ دور سے دیکھنے پر یہ منظر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے درخت الٹے اگ رہے ہوں اور ان کی شاخیں پانی کے اندر موجود ہوں۔ حقیقت میں یہ وہی درخت ہیں جو جھیل بننے سے پہلے وادی میں موجود تھے اور پانی بھرنے کے بعد ڈوب گئے، جبکہ ان کے اوپری حصے آج بھی نمایاں ہیں۔
برف جیسا ٹھنڈا پانی، درخت آج بھی محفوظ
ماہرین کے مطابق کینڈی جھیل کا پانی انتہائی ٹھنڈا رہتا ہے اور گرمیوں میں بھی اس کا درجہ حرارت عموماً 6 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ نہیں ہوتا۔پانی کی یہی کم درجہ حرارت درختوں کو گلنے سڑنے سے بچاتی ہے، جس کی وجہ سے ایک صدی گزرنے کے باوجود ان کے تنے آج بھی بڑی حد تک محفوظ ہیں۔
کینڈی جھیل کا پانی غیر معمولی طور پر شفاف ہے، جس کی وجہ سے پانی کے اندر موجود درختوں کی شاخیں اور دیگر قدرتی مناظر صاف دکھائی دیتے ہیں۔ صبح کے وقت دھند چھا جائے یا سردیوں میں جھیل برف سے ڈھک جائے تو یہ مقام کسی خیالی دنیا کا منظر پیش کرتا ہے، جسے دیکھ کر سیاح حیران رہ جاتے ہیں۔
سردیوں میں مہم جوئی کا مرکز
سردیوں کے موسم میں کینڈی جھیل ایڈونچر کے شوقین افراد کے لیے بھی ایک مقبول مقام بن جاتی ہے۔ یہاں آنے والے سیاح برف میں سوراخ کرکے ٹراؤٹ مچھلی کا شکار کرتے ہیں، جبکہ کئی غوطہ خور برف کے نیچے ڈائیونگ کا بھی منفرد تجربہ حاصل کرتے ہیں، جو دنیا کے چند مخصوص مقامات پر ہی ممکن ہے۔
کینڈی جھیل قازقستان کے ایک دور افتادہ پہاڑی علاقے میں واقع ہے، جہاں تک پہنچنے کے لیے عام سڑکیں موجود نہیں۔ سیاحوں کو آخری مرحلے میں کچی اور دشوار گزار سڑکوں پر خصوصی آف روڈ گاڑیوں کے ذریعے سفر کرنا پڑتا ہے، تاہم قدرت کا یہ حیرت انگیز شاہکار دیکھنے کے بعد زیادہ تر سیاح اس مشکل سفر کو بھی یادگار تجربہ قرار دیتے ہیں۔
قدرتی حسن، پراسرار ماحول، برف جیسے ٹھنڈے پانی اور پانی سے جھانکتے صدی پرانے درختوں کی وجہ سے کینڈی جھیل دنیا کے ان منفرد مقامات میں شامل ہے، جہاں ہر سال ہزاروں افراد قدرت کے اس نادر شاہکار کو دیکھنے کے لیے پہنچتے ہیں۔