اٹلی میں الٹا اگنے والا انجیر کا درخت دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بن گیا

اٹلی میں الٹا اگنے والا انجیر کا درخت دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بن گیا

اٹلی کے قدیم شہر بائیا میں واقع آثارِ قدیمہ کے پارک میں موجود ایک منفرد انجیر کا درخت سیاحوں اور ماہرین دونوں کے لیے حیرت کا باعث بنا ہوا ہے۔ یہ درخت عام درختوں کی طرح زمین سے اوپر نہیں بلکہ ایک قدیم رومی عمارت کی محراب نما چھت سے الٹا نیچے کی جانب اگتا دکھائی دیتا ہے۔

یہ درخت ٹرمے ڈی بائیا کے آثارِ قدیمہ کمپلیکس میں موجود ہے، جہاں اس کا تنا اور شاخیں پتھریلی چھت سے نیچے لٹکتی نظر آتی ہیں، جس سے بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ کششِ ثقل کے اصولوں کو چیلنج کر رہا ہو۔

یہ بھی پڑھیں:ورلڈکپ جیتنے پر اسپینش کھلاڑیوں کو انوکھا تحفہ مل گیا

ماہرین کے مطابق یہ جنگلی انجیر کا درخت ہے، اور اس نوع کے درخت دیواروں، چٹانوں، دراڑوں اور ویران عمارتوں میں بھی نشوونما پانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جہاں دیگر درختوں کا زندہ رہنا مشکل ہوتا ہے۔

تاہم اس درخت کے وجود میں آنے کی اصل وجہ اب بھی ایک معمہ ہے۔ ایک نظریے کے مطابق انجیر کا بیج عمارت کی چھت پر موجود مٹی یا دراڑ میں اگا، جبکہ دوسری رائے یہ ہے کہ ماضی میں چھت پر موجود ایک درخت کو کاٹنے کے بعد اس کی باقی رہ جانے والی جڑوں سے نئی شاخیں نکلیں، جو وقت کے ساتھ نیچے کی جانب بڑھتی گئیں۔

ریسرچرزکا کہنا ہے کہ درخت کی اصل تاریخ یا اس کے الٹا بڑھنے کی وجہ کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا ممکن نہیں۔ اپنی پراسرار ساخت اور منفرد انداز کی وجہ سے یہ الٹا اگنے والا انجیر کا درخت اٹلی کے مشہور قدرتی عجائبات میں شمار ہوتا ہے اور ہر سال بڑی تعداد میں سیاح اسے دیکھنے اور تصاویر بنانے کے لیے یہاں کا رخ کرتے ہیں۔

editor

Related Articles