وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکا کے پاس ایران کے معاملے پر اب بھی تمام آپشنز موجود ہیں۔
تفصیلات کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ڈائریکٹر برائے مواصلات سٹیون چونگ نے فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا ہے کہ صدر ٹرمپ ہمیشہ یہ کہتے آئے ہیں کہ وہ سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن اگر ایران آبنائے ہرمز میں یا ہمارے اتحادیوں کے خلاف شدت پسندانہ سرگرمیاں جاری رکھتا ہے تو (ڈونلڈ ٹرمپ) اپنے تمام آپشنز برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی معیشت کو مفلوج کر دینے والی کامیاب پابندیوں اور اس کی بار بار کی جارحانہ کارروائیوں کے جواب میں فوجی اہداف پر 13 روز تک مسلسل حملوں کے بعد دانش مندانہ راستہ یہی ہو گا کہ ایران کسی معاہدے کے لیے مذاکرات کا رخ کرے، ورنہ وہ جانتے ہیں کہ کیا ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل نیویارک ٹائمز، ایگزیوس، سی این این اور ایسوسی ایٹڈ پریس نے رپورٹ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کم از کم فی الحال ایران کے خلاف امریکی فوجی حملوں کو مزید وسیع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ان رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ جمعہ کو اس وقت کیا گیا جب حکام نے پیٹریاٹ دفاعی میزائلوں کے ذخائر میں کمی اور خلیج فارس میں امریکہ کے عرب اتحادیوں کے دور ہونے کے خدشات پر تشویش ظاہر کی۔
دوسری جانب ایرانی فوج نے بھی تصدیق کی ہے کہ امریکی حملوں کے رکنے کے بعد اس کی افواج نے اپنی کارروائیاں بھی بند کر دی ہیں۔
واضح رہے کہ رواں سال 28 فروری کو اسرائیل اور امریکا نے ایران کے خلاف مشترکہ فضائی حملے کیے تھے، جن کا مقصد ایران میں حکومت کی تبدیلی اور اس کے جوہری و بیلسٹک میزائل پروگرام کو نشانہ بنانا بتایا گیا تھا۔
ان حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر سمیت کئی اعلیٰ حکام شہید ہوئے، جس کے بعد ایران نے میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے جوابی کارروائی کرتے ہوئے امریکی اڈوں، اسرائیل اور خطے کے اتحادی ممالک کو نشانہ بنایا اور آبنائے ہرمز کو بھی بند کر دیا تھا، جس سے عالمی تجارت شدید متاثر ہوئی۔
8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان 2 ہفتوں کی عارضی جنگ بندی طے پائی، جس کے بعد جون کے وسط میں دونوں ممالک کے مابین ایک باقاعدہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے، جس میں 8 روز تک جاری رہنے والے مذاکرات کے ذریعے وسیع تر امن معاہدے تک پہنچنے کا ہدف رکھا گیا تھا۔
تاہم اس دوران کشیدگی میں کئی بار اضافہ دیکھنے میں آیا اور جولائی کے اوائل میں بھی امریکا کی جانب سے نئے حملے کیے گئے، جس سے جنگ بندی کو شدید دھچکا لگا۔ آبنائے ہرمز کا مستقبل تاحال دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا سب سے بڑا اور حساس ترین نکتہ بنا ہوا ہے۔
ایرانی فوجی ترجمانوں کے حالیہ بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تہران اپنے آپ کو موجودہ صورتحال میں سفارتی و عسکری برتری کی پوزیشن پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے، خاص طور پر امریکی حکمتِ عملی کو غیر واضح اور غیر مستحکم قرار دے کر۔
تاہم زمینی حقائق کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی تاحال مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی اور جنگ بندی کا سلسلہ کئی بار متاثر ہو چکا ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حالات ابھی بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔