پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات براہ راست عوام کی روزمرہ زندگی پر پڑنے لگے ہیں، پشاور میں آٹے کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا ہے، جس کے بعد 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 3 ہزار روپے تک پہنچ گئی۔
ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ ہوا، جس کا اثر اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر پڑا آٹے کے نرخ بھی بڑھ گئے اور 20 کلو تھیلے کی قیمت میں 100 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
مارکیٹ میں 2900 روپے میں دستیاب 20 کلو آٹے کا تھیلا اب 3000 روپے میں فروخت ہونے لگا ہے، جبکہ فی کلو آٹے کی قیمت بھی 145 روپے سے بڑھ کر 150 روپے تک پہنچ گئی ہے۔
آٹا ڈیلرز کے مطابق گندم کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث پہلے ہی کاروباری مشکلات کا سامنا تھا، تاہم اب ٹرانسپورٹ کے بڑھتے اخراجات نے مزید دباؤ بڑھا دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اخراجات میں مسلسل اضافے کے باعث آٹے کی قیمتوں کو برقرار رکھنا مشکل ہوگیا ہے، جس کا بوجھ بالآخر صارفین کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
دوسری جانب آٹے کی قیمتوں میں اضافے سے نانبائی بھی متاثر ہوگئے ہیں نانبائیوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے روٹی کے وزن اور قیمتوں پر نظرثانی کی جائے تاکہ کاروبار اور عوام دونوں کے مسائل کا حل نکالا جا سکے۔