آزاد کشمیر انتخابات کے پہلے مرحلے میں پولنگ اسٹیشن نذرِ آتش کرنے اور بیلٹ بکس چھیننے کے سنگین الزام میں استحکام پاکستان پارٹی کے حلقہ ایل اے 6 کے امیدوار علی شان سونی کو پولیس نے گرفتار کر لیا، جبکہ دوسری جانب غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج میں مسلم لیگ (ن) نے برتری حاصل کر لی ہے اور پیپلز پارٹی دوسرے نمبر پر ہے۔
آزاد جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات 2026 کے پہلے مرحلے میں پیش آنے والے ایک ہنگامہ خیز واقعے میں استحکام پاکستان پارٹی کے حلقہ ایل اے 6 کے امیدوار علی شان سونی کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔
ایس ایس پی بھمبر کے مطابق علی شان سونی پر الزام ہے کہ انہوں نے پولنگ اسٹیشن کو نذرِ آتش کیا اور موقع سے بیلٹ بکس چھین کر فرار ہونے کی کوشش کی۔
پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے علی شان سونی سے پولنگ اسٹیشن سے اٹھایا گیا بیلٹ بکس سمیت دیگر انتخابی سامان بھی برآمد کر لیا۔
اس واقعے کے بعد سابق وزیرِ اعلیٰ علی شان سونی سمیت مجموعی طور پر 24 افراد کے خلاف متعلقہ تھانے میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
ایس ایس پی بھمبر نے واضح کیا کہ پولنگ کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی فرد کو قانون کے مطابق نہیں چھوڑا جائے گا۔
دوسری جانب آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے پہلے مرحلے کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج مسلسل موصول ہو رہے ہیں۔
مِیرپور، کوٹلی اور بھمبر کے 13 حلقوں پر پیر کے روز صبح 8 بجے پولنگ کا آغاز ہوا جو شام 5 بجے تک جاری رہنی تھی، تاہم چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر کی ہدایت پر ووٹرز کے غیر معمولی رش کے باعث پولنگ کا وقت ایک گھنٹے کے لیے بڑھا دیا گیا اور یہ عمل شام 6 بجے تک جاری رہا۔
میرپور ڈویژن کے 13 حلقوں میں سے اب تک 10 حلقوں کے مکمل غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج سامنے آ چکے ہیں، جن کے مطابق 7 حلقوں پر مسلم لیگ (ن) جبکہ 3 حلقوں پر پیپلز پارٹی کامیاب قرار پائی ہے۔ ابھی مزید نتائج کا اعلان باقی ہے اور گنتی کا عمل جاری ہے۔
آزاد جموں کشمیر الیکشن کمیشن نے موجودہ سیاسی و سکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر عام انتخابات 2026 کو ایک ہی روز کے بجائے تین الگ الگ مراحل میں کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔
پہلا مرحلہ مِیرپور ڈویژن (مِیرپور، کوٹلی اور بھمبر) میں 27 جولائی کو مکمل ہوا، دوسرا مرحلہ 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور پاکستان میں مقیم مہاجرینِ جموں و کشمیر کی نشستوں پر ہوگا، جبکہ تیسرا اور آخری مرحلہ 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں منعقد کیا جائے گا۔
میرپور ڈویژن میں مجموعی طور پر تقریباً 14 لاکھ رجسٹرڈ ووٹرز حقِ رائے دہی استعمال کرنے کے اہل تھے، جن کے لیے سینکڑوں پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے تھے۔
الیکشن کے پرامن انعقاد کے لیے پولیس اور فوج کی بھاری نفری تعینات کی گئی، اس کے باوجود بعض حلقوں سے تشدد، دھاندلی کے الزامات اور اب پولنگ اسٹیشن نذرِ آتش کرنے جیسے واقعات رپورٹ ہوئے۔
واضح رہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف نے ان انتخابات کا باضابطہ بائیکاٹ کیا ہے، تاہم پارٹی کے بعض سابق رہنما آزاد حیثیت میں میدان میں موجود ہیں، جبکہ مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، استحکام پاکستان پارٹی اور آزاد امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا۔
اس واقعے کے کئی پہلو انتہائی اہم ہیں۔ ایک طرف انتخابی عمل کے دوران تشدد اور بیلٹ بکس چھیننے جیسے واقعات آزاد کشمیر میں انتخابات کی شفافیت پر سوالات کھڑے کرتے ہیں، خصوصاً جب ایک متحرک اور بااثر امیدوار براہِ راست ایسے الزام میں ملوث پایا جائے۔
اس سے یہ تاثر مزید تقویت پکڑتا ہے کہ نتائج کی صورتحال جن حلقوں میں کسی امیدوار کے حق میں کمزور پڑ رہی ہو، وہاں انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے کے واقعات پیش آ سکتے ہیں۔
دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کی 7 حلقوں میں کامیابی اور پیپلز پارٹی کی 3 حلقوں میں فتح اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ میرپور ڈویژن میں روایتی طور پر مضبوط تصور کی جانے والی مسلم لیگ (ن) نے اپنی گرفت برقرار رکھی ہے، تاہم پیپلز پارٹی کی موجودگی بھی قابلِ ذکر ہے۔
استحکام پاکستان پارٹی کی جانب سے شدید ردعمل اور اس نوعیت کا واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ نتائج کچھ حلقوں میں پارٹی کی توقعات کے برعکس آئے، جس کے باعث کشیدگی جنم لے سکتی ہے۔
آئندہ مراحل، خصوصاً مظفرآباد ڈویژن اور پونچھ ڈویژن میں پولنگ سے قبل، الیکشن کمیشن اور سکیورٹی اداروں کے لیے یہ ایک واضح انتباہ ہے کہ حساس حلقوں میں سیکیورٹی مزید سخت کی جائے تاکہ ایسے واقعات کا تدارک کیا جا سکے۔