امریکا کی جانب سے تصدیق کی گءی ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور 4 سے 6 اگست تک اٹلی کے دارالحکومت روم میں منعقد ہوگا۔
ان مذاکرات کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی میں کمی لانا اور جنوبی لبنان کی صورتحال سے متعلق پیش رفت کو آگے بڑھانا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق مذاکرات امریکا کی ثالثی میں ہوں گے جبکہ ان میں اسرائیل اور لبنان کے نمائندے شرکت کریں گے۔
اس سے قبل اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی بھی مذاکرات کے نئے دور کی تاریخوں کا اعلان کر چکے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیل جنوبی لبنان میں قائم دو پائلٹ زونز سے مرحلہ وار انخلا کی تیاری کر رہا ہے جس پر بھی مذاکرات کے دوران تفصیلی بات چیت متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں :لبنان پر حملے بند نہ ہوئے تو امریکا سے مذاکرات روک دینگے، ایرانی سپیکر باقر قالیباف کا انتباہ
اسرائیل اور لبنان کے درمیان موجودہ فریم ورک معاہدہ اس وقت سامنے آیا تھا جب 2 مارچ کو اسرائیل اور ایران کے حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ کے درمیان جنگ کا آغاز ہوا تھا ، اس معاہدے کا مقصد لبنان میں جنگ کا خاتمہ، حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا، جنوبی لبنان میں لبنانی فوج کی تعیناتی اور اسرائیلی افواج کا مرحلہ وار انخلا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق روم میں ہونے والے مذاکرات خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں ، اگر فریقین کسی نئے اتفاقِ رائے تک پہنچ جاتے ہیں تو جنوبی لبنان میں سیکیورٹی صورتحال بہتر ہونے اور سرحدی کشیدگی میں کمی کی امید پیدا ہو سکتی ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے دوران جنگ بندی کے فریم ورک پر عمل درآمد، سرحدی سلامتی اور مستقبل کے سفارتی اقدامات پر بھی غور کیا جائے گا۔