کوئٹہ میں تعینات ایران کے قونصل جنرل محمد کریمی تودشکی نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے دونوں ممالک کو اعلیٰ ترین سطح پر مؤثر اور عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
انہوں نے 27 جولائی 2026 کو کوئٹہ ایوان صنعت و تجارت کے عہدیداروں اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے نمایاں کاروباری افراد سے ملاقات میں کہا کہ تجارتی تعلقات میں وسعت دونوں ہمسایہ ممالک کے معاشی مفاد میں ہے، تاہم مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لیے سرحدی گزرگاہوں، کسٹمز نظام اور تاجروں کو درپیش انتظامی مسائل حل کرنا ضروری ہیں۔
ایرانی قونصل جنرل نے کہا کہ ‘ایران پاکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے اور کاروباری برادری کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔’
محمد کریمی تودشکی کے مطابق ایران بلوچستان کی کاروباری برادری کے مسائل اور خدشات کو اپنے تاجروں کے مسائل سمجھتا ہے۔
دونوں ممالک کے متعلقہ حکام سے گبد ریمدان سمیت دیگر سرحدی گزرگاہوں پر سہولیات بہتر بنانے، کسٹمز مراحل آسان کرنے اور تجارتی سامان کی کلیئرنس تیز کرنے کے لیے بات چیت جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی تجارت تیزی سے جدید اور ڈیجیٹل نظام کی جانب بڑھ رہی ہے، اس لیے پاکستان اور ایران کو بھی سرحدی مراکز پر جدید اسکیننگ، ڈیجیٹل دستاویزات، تیز رفتار کسٹمز کلیئرنس اور مربوط تجارتی نظام متعارف کرانا ہوگا۔
گبد ریمدان سرحد 24 گھنٹے کھولنے کا مطالبہ
کوئٹہ ایوان صنعت و تجارت کے صدر حاجی محمد ایوب مریانی نے مطالبہ کیا کہ گبد ریمدان سرحدی گزرگاہ کو ہفتے کے تمام دن 24 گھنٹے کھلا رکھا جائے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان درآمدات اور برآمدات بلا تعطل جاری رہ سکیں۔
انہوں نے کہا کہ سرحدی گزرگاہ کے محدود اوقات کار کے باعث سامان سے لدے ٹرکوں اور دیگر تجارتی گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ جاتی ہیں۔
کلیئرنس میں تاخیر سے تاجروں کو اضافی کرایہ، ایندھن، عملے کی اجرت اور خراب ہونے والی اشیا کے نقصان کی صورت میں بھاری مالی بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔
حاجی محمد ایوب مریانی کے مطابق گبد ریمدان سرحد سے روزانہ سینکڑوں گاڑیاں گزرتی ہیں، لیکن گاڑیوں کی تعداد کے مقابلے میں کسٹمز عملہ اور کلیئرنس کاؤنٹر ناکافی ہیں۔ ڈرائیوروں کے لیے آرام گاہوں، پینے کے پانی، طبی امداد، بیت الخلا اور دیگر بنیادی سہولیات کی کمی بھی تجارت کے عمل کو متاثر کر رہی ہے۔
انہوں نے دونوں ممالک کے حکام سے مطالبہ کیا کہ سرحد پر کسٹمز اہلکاروں کی تعداد بڑھائی جائے، مختلف شفٹوں میں عملہ تعینات کیا جائے اور تجارتی گاڑیوں کے لیے علیحدہ راستے اور پارکنگ مراکز قائم کیے جائیں۔
کوئٹہ ایوان صنعت و تجارت کے صدر نے بتایا کہ پاکستان بھر کے تاجروں کا قومی سیمینار 28 اور 29 جولائی کو اسلام آباد میں منعقد ہونا ہے، جس میں سرحدی تجارت، کسٹمز پالیسی، درآمدی و برآمدی ضوابط اور کاروباری برادری کو درپیش مسائل پر غور کیا جائے گا۔
گبد ریمدان گزرگاہ کی اہمیت
گبد ریمدان سرحدی راستہ بلوچستان کے ساحلی علاقوں کو ایران کے ساتھ ملانے والی اہم تجارتی گزرگاہ ہے۔ گبد، گوادر سے تقریباً 87 کلومیٹر جبکہ ایران کی چاہ بہار بندرگاہ سے تقریباً 137 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
پاکستان اور ایران نے دسمبر 2020 میں گبد ریمدان کو بین الاقوامی سرحدی گزرگاہ کا درجہ دیا تھا جبکہ مئی 2021 میں اسے بین الاقوامی زمینی راہداری نظام کے تحت تجارتی گزرگاہ کے طور پر بھی نوٹیفائی کیا گیا۔
یہ راستہ گوادر اور چاہ بہار کی بندرگاہوں کو ملانے کے ساتھ پاکستان کو ایران، ترکی، آذربائیجان اور وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
بین الاقوامی زمینی راہداری نظام کے تحت سامان کی کسٹمز جانچ بار بار کرنے کے بجائے بنیادی طور پر روانگی اور منزل پر کی جاتی ہے۔
اس نظام کا مقصد سرحدوں پر انتظار کا دورانیہ کم کرنا، دستاویزی مراحل آسان بنانا اور تجارتی سامان کی محفوظ اور تیز تر نقل و حرکت یقینی بنانا ہے۔
6 مشترکہ سرحدی منڈیوں کا منصوبہ
پاکستان اور ایران نے اپریل 2021 میں بلوچستان اور ایران کے صوبہ سیستان بلوچستان کے درمیان 6 مشترکہ سرحدی منڈیاں قائم کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
ان منڈیوں کا مقصد سرحدی علاقوں میں غیر رسمی تجارت کو قانونی تجارتی نظام میں لانا، مقامی آبادی کو روزگار فراہم کرنا اور سرحد کے دونوں جانب غربت اور معاشی محرومی کم کرنا تھا۔
مند پشین مشترکہ سرحدی منڈی کو 30 جولائی 2025 کو دوبارہ فعال کیا گیا تھا، جبکہ چاغی کوہک اور گبد ریمدان کی مشترکہ منڈیوں کو مکمل طور پر فعال کرنے کے لیے بھی دونوں ممالک کے درمیان مشاورت جاری ہے۔
کاروباری حلقوں کا مؤقف ہے کہ تمام مجوزہ سرحدی منڈیاں فعال ہونے سے بلوچستان کے دور دراز اضلاع میں روزگار بڑھے گا، اشیائے ضروریہ کی قانونی فراہمی بہتر ہوگی اور غیر دستاویزی تجارت کا حجم کم کرنے میں مدد ملے گی۔
3 ارب ڈالر کی تجارت، ہدف 10 ارب ڈالر
پاکستان اور ایران کی موجودہ دوطرفہ تجارت کا حجم تقریباً 3 ارب ڈالر بتایا گیا ہے۔ دونوں ممالک نے اسے بڑھا کر 2028 تک 10 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔
اس مقصد کے لیے آزاد تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے، بارٹر تجارت کو مؤثر بنانے، سرحدی منڈیوں کو فعال کرنے، کاروباری وفود کے تبادلوں اور تجارتی و غیر تجارتی رکاوٹوں کے خاتمے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
ستمبر 2025 میں ہونے والے پاکستان ایران مشترکہ اقتصادی کمیشن کے اجلاس میں بھی 10 ارب ڈالر کے ہدف کا اعادہ کیا گیا تھا۔
اجلاس میں محصولات اور غیر محصولاتی رکاوٹیں دور کرنے، سرحدی منڈیوں کو فعال بنانے، کسٹمز تعاون بہتر کرنے اور تاجروں و ڈرائیوروں کے لیے ویزا نظام آسان بنانے پر اتفاق ہوا تھا۔
پاکستان ایران کو چاول، گوشت، پھل، سبزیاں، زرعی مصنوعات، ادویات، کپڑا اور کھیلوں کا سامان برآمد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ ایران سے بجلی، مائع پیٹرولیم گیس، کیمیکل، تعمیراتی مواد، پھل اور دیگر مصنوعات درآمد کی جا سکتی ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان بارٹر تجارت کا نظام بینکاری اور ادائیگی سے متعلق مشکلات کا متبادل بن سکتا ہے۔ اس طریقہ کار کے تحت پاکستانی اور ایرانی کاروباری ادارے براہ راست اشیا کے بدلے اشیا کا لین دین کر سکتے ہیں، تاہم تاجروں کا کہنا ہے کہ اجازت ناموں اور کسٹمز مراحل کو مزید آسان بنانا ضروری ہے۔
پاکستان اور ایران کے درمیان معاشی تعلقات کی سب سے بڑی کمزوری سیاسی عزم کی کمی نہیں بلکہ فیصلوں پر سست عمل درآمد ہے۔
دونوں ممالک کئی برسوں سے تجارت بڑھانے، سرحدی منڈیاں قائم کرنے اور بارٹر نظام فعال بنانے کے اعلانات کرتے آئے ہیں، لیکن عملی سطح پر محدود اوقات کار، کسٹمز عملے کی کمی، ناقص بنیادی ڈھانچہ اور پیچیدہ دستاویزات تجارت کی رفتار کم کر دیتی ہیں۔
گبد ریمدان سرحد کو صرف 24 گھنٹے کھول دینا کافی نہیں ہوگا۔ اس کے ساتھ کسٹمز، قرنطینہ، امیگریشن، بینکاری، سکیورٹی اور نقل و حمل سے متعلق تمام اداروں کو بھی مختلف شفٹوں میں کام کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر سرحد کھلی رہنے کے باوجود سامان کی کلیئرنس محدود اوقات میں ہی ممکن ہوگی۔
گبد ریمدان کی اصل اہمیت یہ ہے کہ یہ گوادر اور چاہ بہار کے درمیان ایک مختصر زمینی رابطہ فراہم کرتا ہے۔ بہتر شاہراہوں، گوداموں، سردخانوں اور مال بردار سہولیات کے قیام سے دونوں بندرگاہیں ایک دوسرے کی حریف بننے کے بجائے علاقائی تجارت میں ایک دوسرے کی معاون بن سکتی ہیں۔
3 ارب ڈالر سے 10 ارب ڈالر تک پہنچنے کے لیے دوطرفہ تجارت کو 3 گنا سے زیادہ بڑھانا ہوگا۔ یہ ہدف صرف سرکاری ملاقاتوں اور مفاہمتی یادداشتوں سے حاصل نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے سالانہ واضح اہداف، قابل تجارت اشیا کی متفقہ فہرست، تیز رفتار سرحدی کلیئرنس اور کاروباری تنازعات کے حل کا مستقل نظام ضروری ہوگا۔
پاکستان کو ایران کی بڑی منڈی میں چاول، گوشت، کینو، آم، ادویات، کپڑے اور زرعی مصنوعات کے لیے بہتر رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب ایران بلوچستان اور پاکستان کے دیگر علاقوں کی توانائی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
سرحدی تجارت بڑھنے سے صرف بڑے درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان کو فائدہ نہیں ہوگا بلکہ گوادر، کیچ، پنجگور، چاغی اور دیگر سرحدی اضلاع میں ٹرانسپورٹ، گوداموں، ہوٹلوں، ورکشاپس اور چھوٹے کاروباروں کے لیے بھی روزگار پیدا ہوگا۔
قانونی اور منظم تجارت میں اضافہ سرحدی علاقوں میں اسمگلنگ اور غیر دستاویزی کاروبار کم کرنے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔ جب مقامی لوگوں کو قانونی تجارت کے آسان اور سستے مواقع میسر ہوں گے تو غیر رسمی راستوں پر انحصار خود بخود کم ہوگا۔
حکومتوں کو گبد ریمدان کو ایک عام سرحدی چوکی کے بجائے مکمل تجارتی مرکز کے طور پر ترقی دینا ہوگا۔ 24 گھنٹے آپریشن، جدید اسکیننگ، گاڑیوں کی آن لائن رجسٹریشن، پیشگی کسٹمز اعلامیہ اور سامان کی ڈیجیٹل نگرانی ایسے اقدامات ہیں جو انتظار کے دورانیے اور کاروباری اخراجات میں نمایاں کمی لا سکتے ہیں۔