وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی براؤن فیلڈ ریفائنری پالیسی 2023 میں ترامیم کی منظوری دے دی، جس سے ملک میں موجود ریفائنریوں کی طویل عرصے سے تعطل کا شکار اپ گریڈیشن کا راستہ ہموار ہو گیا، جس کا مقصد ایندھن کے معیار میں بہتری، درآمدات میں کمی اور توانائی کے شعبے میں نئی سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت کابینہ کمیٹی برائے توانائی (سی سی او ای) کے اجلاس میں براؤن فیلڈ ریفائنری پالیسی 2023 میں مجوزہ ترامیم کی منظوری دے دی گئی۔ یہ فیصلہ صنعتی شراکت داروں اور متعلقہ اداروں کے ساتھ طویل مشاورت کے بعد کیا گیا۔
براؤن فیلڈ ریفائنری پالیسی 2023 اصل میں 17 اگست 2023 کو نافذ کی گئی تھی، جس کا مقصد پاکستان کی موجودہ ریفائنریوں کی جدید کاری کے لیے تقریباً 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کو راغب کرنا تھا۔
ان منصوبوں کے تحت یورو 5 معیار کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی پیداوار، فرنس آئل کی پیداوار میں کمی، ماحولیاتی معیارات میں بہتری اور پاکستان کی توانائی سلامتی کو مضبوط بنانا مقصود ہے۔
اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے اور محفوظ توانائی کا نظام یقینی بنانے کے لیے ریفائنریوں کی جدید کاری ناگزیر ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اپ گریڈ شدہ ریفائنریاں ملکی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ ماحول دوست ایندھن کی پیداوار میں بھی معاون ثابت ہوں گی۔
وزیراعظم نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت کی کہ نظرثانی شدہ پالیسی پر بروقت عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اصلاحات متعارف کرائی جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے مضبوط ریگولیشن، شفافیت اور مسابقت ناگزیر ہیں۔
حکومت نے قطر، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے سرمایہ کاروں کے سامنے ترمیم شدہ ریفائنری پالیسی کو روڈ شوز کے ذریعے متعارف کرانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔
وزیراعظم نے پالیسی ترامیم کو حتمی شکل دینے پر وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ نظرثانی شدہ پالیسی کا مقصد ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن میں تیزی لانا، ماحول دوست ایندھن کی پیداوار بڑھانا، غیر معیاری پیٹرولیم مصنوعات میں کمی لانا اور پاکستان کے توانائی اصلاحاتی ایجنڈے کو تقویت دینا ہے۔
وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ملکی توانائی تحفظ مضبوط بنانے کے لیے اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر بڑھانے کی ہدایت بھی دی۔
براؤن فیلڈ ریفائنری پالیسی پاکستان کی پانچ فعال ریفائنریوں پر لاگو ہوتی ہے، جن کی مجموعی صلاحیت تقریباً 20.5 ملین ٹن سالانہ ہے۔
تاہم پالیسی کے نفاذ کے 3 سال بعد بھی عملدرآمد سست روی کا شکار رہا۔ ابتدائی طور پر اپ گریڈ ایگریمنٹ پر دستخط کے لیے دی گئی 3 ماہ کی مہلت نومبر 2023 میں ختم ہوئی تھی، جسے دو مرتبہ توسیع دی گئی۔
اس کے باوجود ملک کی نصف سے زائد ریفائننگ صلاحیت رکھنے والی دو بڑی ریفائنریوں نے تاحال معاہدے پر دستخط نہیں کیے تھے، جبکہ صرف ایک ریفائنری نے اپ گریڈ ایگریمنٹ پر دستخط مکمل کیے۔
فنانس ایکٹ 2024 کے تحت سیلز ٹیکس کے نظام میں تبدیلیوں نے بھی ریفائنریوں کی مالی استطاعت کو متاثر کیا، جس کے باعث منصوبے تعطل کا شکار رہے۔
پالیسی کے تحت ریفائنریوں کو ہائی اسپیڈ ڈیزل پر اضافی مراعات اور پیٹرول پر 7 سال کے لیے ڈیمڈ ڈیوٹی کی صورت میں مراعات دی جاتی ہیں، جو ‘اوگرا’ کے زیرِ انتظام ایسکرو اکاؤنٹ میں جمع کی جاتی ہیں تاکہ اپ گریڈیشن کے اخراجات کے ایک بڑے حصے کی مالی معاونت کی جا سکے۔
نئی ترامیم میں سرمایہ کاروں کے تحفظ کے لیے استحکام اور مساوات کی شقیں بھی شامل کی گئی ہیں تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں اور مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال کیا جا سکے۔
براؤن فیلڈ ریفائنری پالیسی کی منظوری کو پاکستان کے توانائی شعبے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے، تاہم اس کی کامیابی کا انحصار عملدرآمد پر ہوگا، جو گزشتہ 3 برسوں سے تاخیر کا شکار رہا۔
ماضی میں ٹیکس ریگولیشن میں غیر یقینی صورتحال اور ڈیمڈ ڈیوٹی میں ممکنہ کمی جیسے تنازعات نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا، لہٰذا موجودہ ترامیم میں شامل استحکام کی شقیں اگر مؤثر طریقے سے نافذ ہوں تو یہ سرمایہ کاروں کے خدشات دور کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
دوسری جانب یہ پالیسی پاکستان کی توانائی درآمدات میں کمی اور ماحول دوست ایندھن کی پیداوار کے لیے اہم ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ملک زرِمبادلہ کے ذخائر کی کمی اور درآمدی بل کے دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔
تاہم اوگرا کی ریگولیٹری کارکردگی میں بہتری اور شفافیت کے بغیر یہ منصوبے ماضی کی طرح تاخیر کا شکار ہو سکتے ہیں۔ خلیجی ممالک میں سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے روڈ شوز کا انعقاد ایک مثبت قدم ہے، البتہ عملی طور پر معاہدوں پر دستخط اور فنڈز کے اجراء میں تسلسل ہی اس پالیسی کی حقیقی کامیابی کا تعین کرے گا۔