’’ را ‘‘ کو بے نقاب کرنے کے پیچھے خاتون کون ہے؟ صحافی فخر درانی نئی تفصیلات سامنے لے آئے

’’ را ‘‘ کو بے نقاب کرنے کے پیچھے خاتون کون ہے؟ صحافی فخر درانی نئی تفصیلات سامنے لے آئے

پاکستانی تحقیقاتی صحافی فخر درانی نے انکشاف کیا ہے کہ ایک مشکوک خاتون جسے وہ بھارتی خفیہ ایجنسی را (RAW) کی آپریٹو قرار دیتے ہیں نے دبئی میں قائم ایک پبلک ریلیشنز (پی آر) کمپنی کی نمائندہ بن کر ان سے رابطہ کیا، اس کا مقصد پاکستانی میڈیا میں ریاست مخالف بیانیہ پھیلانا اور بعد ازاں حساس اور غیر شائع شدہ معلومات تک رسائی حاصل کرنا تھا۔

فخر درانی نے پاکستان کنیکٹ کو انٹرویو میں بتایا کہ 19 نومبر 2025 کو ایک خاتون نے فیس بک پر ان سے رابطہ کیا، اس نے ان کی صحافتی خدمات کو سراہتے ہوئے اپنا تعارف دبئی میں قائم میٹرکس کنسلٹنسی (Matrix Consultancy) نامی پی آر فرم کی نمائندہ کے طور پر کرایا۔

ابتدائی طورپرخاتون نے کہا کہ کمپنی اپنے ایسے کلائنٹس کے لیے مضامین شائع کروانا چاہتی ہے جو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حمایت کرتے ہیں۔

شک کیوں ہوا؟

فخر درانی کے مطابق انہیں اس وقت شک ہوا جب مجوزہ مضامین میں پاک فوج، پاک چین تعلقات اور بلوچستان کے خلاف مواد شائع کرنے کی بات کی گئی، جبکہ افغانستان کے حق میں بیانیہ پیش کرنے پر زور دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ جب مجھ سے پوچھا گیا کہ کیا میں فوج مخالف، پاک چین تعلقات کے خلاف اور بلوچستان سے متعلق مواد شائع کروا سکتا ہوں تو یہ میرے لیے خطرے کی پہلی گھنٹی تھی۔

حساس معلومات کی کوشش

فخر درانی نے بتایا کہ ابتدا میں ان سے صرف صحافتی کام کے حوالے سے بات کی گئی، تاہم چند ماہ بعد یہ جانچنے کی کوشش کی گئی کہ آیا وہ ایسی معلومات بھی حاصل کر سکتے ہیں جو عوامی سطح پر دستیاب نہیں،27 فروری کو مجھ سے پاک افغان سرحد پر جھڑپوں سے متعلق معلومات، ویڈیوز اور تصاویر بھی طلب کی گئیں۔

کرپٹو میں ادائیگی

فخر درانی کا کہنا تھا کہ نیٹ ورک نے ادائیگی صرف کرپٹو کرنسی کے ذریعے کرنے پر زور دیاجب انہوں نے کہا کہ وہ کرپٹو سے واقف نہیں تو خاتون نے اکاؤنٹ بنانے اور ادائیگی وصول کرنے کا طریقہ بھی بتایا اور دعویٰ کیا کہ کرپٹو ٹرانزیکشنز کا سراغ نہیں لگایا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیں :فخر درانی نے ’’را‘‘ ایجنٹ سے گفتگو کے مزید شواہد جاری کر دیے، کال ریکارڈ، اسکرین شاٹ اور تین ویڈیوز شیئر

فخر درانی نے بتایا کہ خاتون نے دعویٰ کیا کہ کئی پاکستانی صحافی پہلے ہی اس نیٹ ورک کے ساتھ کام کر رہے ہیں تاہم جب انہوں نے ان صحافیوں کے نام یا شائع شدہ رپورٹس کی مثالیں طلب کیں تو خاتون نے انکار کر دیا۔

رپورٹ پر ردعمل

فخر درانی کے مطابق تحقیقاتی رپورٹ شائع ہونے کے بعد خاتون نے معمول کے مطابق پوچھا کہ مضمون شائع ہوا یا نہیں،انہوں نے جواب میں اپنی رپورٹ کا لنک بھیجا اور لکھا، آپ نے اس کام کے لیے غلط صحافی کا انتخاب کیا،رپورٹ پڑھنے کے بعد خاتون نے صرفOhhh, good for youلکھا اور پھر واٹس ایپ اور فیس بک دونوں پر انہیں بلاک کر دیا۔

اصل شناخت کیا تھی؟

فخر درانی کے مطابق فیس بک پر خاتون نےریدا قریشیجبکہ واٹس ایپ پر ہیلینا کا نام استعمال کیا،ان کا کہنا تھا کہ دونوں نام فرضی ہو سکتے ہیں اور وہ اس خاتون کی اصل شناخت سے واقف نہیں۔

دھمکی ملی یا نہیں؟

فخر درانی نے بتایا کہ رپورٹ شائع ہونے کے بعد انہیں یا ان کے اہل خانہ کو کوئی براہِ راست دھمکی نہیں ملی،البتہ ان کے ادارے کی اعلیٰ انتظامیہ اور بعض سرکاری حکام نے انہیں ذاتی سلامتی کے حوالے سے احتیاط برتنے کا مشورہ دیا۔

editor

Related Articles