9 مئی ریڈیو پاکستان کیس، سہیل آفریدی کیلئے بڑی قانونی مشکل؟ شبیر گگیانی کا اہم انکشاف

9 مئی ریڈیو پاکستان کیس، سہیل آفریدی کیلئے بڑی قانونی مشکل؟ شبیر گگیانی کا اہم انکشاف

پشاور میں 9 مئی واقعات کے دوران ریڈیو پاکستان کی عمارت پر حملے اور جلاؤ گھیراؤ سے متعلق کیس ایک بار پھر اہم مرحلے میں داخل ہوگیا ہے، سینئر قانون دان اور ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں وکیل شبیر حسین گگیانی ایڈووکیٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ مقدمے میں سامنے آنے والی فرانزک رپورٹ کی بنیاد پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں کے خلاف قانونی کارروائی آگے بڑھ سکتی ہے۔

شبیر حسین گگیانی نے آذاد ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریڈیو پاکستان پشاور حملہ کیس میں اگر عدالت کے سامنے شواہد ثابت ہوجاتے ہیں تو سہیل آفریدی کو نہ صرف نااہلی کے قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے بلکہ سنگین دفعات کے تحت سخت سزا بھی ہوسکتی ہے۔

فرانزک رپورٹ میں نام

شبیر حسین گگیانی کے مطابق پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری کی رپورٹ میں سہیل آفریدی، سابق صوبائی وزرا تیمور سلیم جھگڑا اور کامران بنگش، پی ٹی آئی رہنما عرفان سلیم جبکہ یوٹیوبر عامر چمکنی سمیت بعض افراد کی ویڈیوز میں موجودگی کی شناخت سامنے آئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری نے پشاور پولیس کی جانب سے فراہم کردہ 16 ویڈیوز کا فریم بہ فریم تجزیہ کیا تھا،رپورٹ میں بعض ویڈیوز میں افراد اور تصاویر کی شناخت کی گئی اور اس میں سہیل آفریدی کے ملوث ہونے کی تصدیق بھی ہوچکی۔

یہ بھی پڑھیں :؍ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں سہیل آفریدی کے ملوث ہونے کی تصدیق

حکومت پر دباؤ کا الزام

شبیر گگیانی نے گفتگو کے دوران کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے پولیس پر دباؤ ڈالا اور 9 مئی واقعات کی انکوائری اور متعلقہ مواد انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کرنے کے عمل میں رکاوٹیں پیدا کیں،انہوں نے کہا کہ پولیس کے پاس موجود شواہد اور فرانزک رپورٹ کو عدالت کے سامنے مکمل طور پر پیش کیا جانا چاہیے تاکہ مقدمے کی قانونی حیثیت واضح ہوسکے۔

چالان میں سہیل آفریدی

اس کیس میں مارچ 2026 میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی تھی جب سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق ریڈیو پاکستان حملہ کیس کا چالان انسداد دہشت گردی عدالت میں جمع کرایا گیا ۔

 وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سمیت تیمور جھگڑا، کامران بنگش، عرفان سلیم اور عامر چمکنی کے نام شامل کیے گئے،اس سے قبل پولیس کی جانب سے سہیل آفریدی کو ضمنی چالان میں شامل کرنے کی کوشش کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔

سزا سے متعلق دعویٰ

شبیر حسین گگیانی کا کہنا تھا کہ اگر مقدمے میں عائد سنگین دفعات کے تحت جرم عدالت میں ثابت ہوجاتا ہے تو ملزمان کو سخت قانونی نتائج کا سامنا ہوسکتا ہے انہوں نے خاص طور پر سہیل آفریدی کی ممکنہ نااہلی اور عمر قید تک کی سزا کا ذکر کیا۔

دیگر رہنماؤں کا مؤقف

دوسری جانب تیمور جھگڑا اور عرفان سلیم سمیت بعض رہنماؤں نے ماضی میں موقف اختیار کیا کہ وہ ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں نامزد نہیں تھے اور مظاہرے میں موجودگی کو جلاؤ گھیراؤ میں ملوث ہونے کے مترادف قرار نہیں دیا جاسکتا۔

معاملہ عدالت میں

ریڈیو پاکستان پشاور کیس میں اب بنیادی سوال یہ ہے کہ فرانزک رپورٹ اور دیگر شواہد کو عدالت کس قانونی معیار پر پرکھتی ہے اور آیا استغاثہ کسی بھی ملزم کے خلاف جرم میں براہ راست ملوث ہونے کا الزام شواہد کے ذریعے ثابت کر پاتا ہے۔

editor

Related Articles