سکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں آپریشنز کے دوران10خوارج ہلاک ہو گئے جبکہ 6بہادر جوان شہید ہو گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق 15 سے 17 ستمبر 2026 کے دوران خیبر پختونخوا کے صوبے میں مختلف جھڑپوں میں بھارت کی سرپرستی میں چلنے والے فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 10خوارجی ہلاک ہو گئے جبکہ مٹی کے 6بہادر سپوتوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق خوارج کی موجودگی کی اطلاع پرسکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کیا۔
آپریشن کے دوران جوانوں نے خوارج کے ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعدبھارت کی سرپرستی والے فتنہ الخوارج کے چھ ارکان کو جہنم واصل کر دیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ہنگو میں ہونے والی ایک اور جھڑپ میںپاک فوج کے بہادر جوانوں نے مزید 4خوارج کو انجام تک پہنچایا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق17 ستمبر 2026 کو سکیورٹی فورسز کے قافلے پر ایک دیسی ساختہ بم آئی ای ڈی کا دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں مٹی کے 6بہادر سپوتوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا اور شہادت کا رتبہ پایا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک ہونے والے بھارت نواز خوارج سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے، یہ خوارج علاقے میں دہشتگردی کی متعدد کارروائیوں میں سرگرمِ عمل رہے تھے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں موجود بھارت نواز خوارج کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشنزکیے جا رہے ہیں۔
ملک سے غیر ملکی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشت گردی کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے آپریشن عزمِ استحکام (جس کی منظوری نیشنل ایکشن پلان پر وفاقی ایپکس کمیٹی نے دی تھی) کے تحت انسدادِ دہشت گردی کی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ہمارے بہادر سپاہیوں کی یہ قربانیاں ہر قیمت پر قوم کے تحفظ کیلئے ہمارے غیر متزلزل عزم کو مزید تقویت دیتی ہیں۔
