جنوبی کوریا کی عدالت نے معروف کاروباری شخصیت اور میموری چپس بنانے والی کمپنی ایس کے ہائنکس کے چیئرمین چی تے وون کو اپنی سابقہ اہلیہ رو سو یونگ کو طلاق کے تصفیے کے تحت 644 ملین ڈالر جو کہ 184 ارب پاکستانی روپے بنتے ہیں ادا کرنے کا حکم دے دیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس فیصلے کو جنوبی کوریا کی تاریخ ہی نہیں بلکہ گزشتہ ایک صدی کی مہنگی ترین طلاقوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 65 سالہ چی تے وون اور رو سو یونگ کے درمیان قانونی تنازع کئی برسوں سے جاری ہے۔ اس سے قبل 2024 میں سیول ہائی کورٹ نے چی تے وون کو سابقہ اہلیہ کو 940 ملین ڈالر ادا کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم انہوں نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔
سپریم کورٹ نے اپیل پر سماعت کے بعد رقم میں کمی کرتے ہوئے فیصلہ دیا کہ رو سو یونگ کو جوڑے کے مشترکہ ازدواجی اثاثوں کے تقریباً ایک تہائی کے برابر، یعنی 644 ملین ڈالر نقد ادا کیے جائیں۔
مقامی میڈیا نے اس فیصلے کو ’’صدی کی سب سے مہنگی طلاق‘‘ قرار دیا ہے، تاہم قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ ابھی حتمی نہیں، کیونکہ دونوں فریق دوبارہ سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا حق رکھتے ہیں۔
چی تے وون اور رو سو یونگ کی شادی 1988 میں ہوئی تھی۔ اس وقت رو سو یونگ کے والد رو تے وو جنوبی کوریا کے صدر تھے۔ دونوں کے درمیان اختلافات کے بعد چی تے وون نے 2017 میں ثالثی کی کوشش ناکام ہونے پر عدالت سے طلاق کی درخواست دائر کی، جبکہ 2022 سے یہ مقدمہ مختلف عدالتوں میں زیر سماعت رہا۔