دنیا میں ایک ایسا منفرد ترین اور حیرت انگیز قصبہ بھی موجود ہے جہاں رہنے والے افراد روزمرہ زندگی میں کئی بار ایک ملک سے دوسرے ملک کی سرحد عبور کرتے ہیں۔ یہ قصبہ اتنا منفرد ہے کہ یہاں آنے والے سیاح اکثر حیران رہ جاتے ہیں کہ وہ اس وقت کس ملک میں کھڑے ہیں۔
بارلے ہیرتوخ: ایک قصبہ، دو ممالک کی کہانی
بیلجیئم اور نیدرلینڈز کی سرحد پر واقع بارلے ہیرتوخ (Baarle-Hertog) دنیا کے عجیب ترین مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں زمین پر بنی سرحدی لکیریں گھروں، دکانوں اور سڑکوں کے درمیان سے گزرتی ہیں، جس سے یہ جگہ ایک جغرافیائی معمے کی شکل اختیار کر گئی ہے۔
کچھ گھر ایک ملک میں، کچھ حصے دوسرے ملک میں
اس قصبے میں کئی ایسے گھر موجود ہیں جو بیک وقت دونوں ممالک میں واقع ہیں۔ بعض گھروں میں لوگ ایک ملک میں کھانا پکاتے ہیں جبکہ دوسرے ملک کے حصے میں بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں۔ یہاں سرحدیں صرف نقشوں تک محدود نہیں بلکہ حقیقت میں گھروں کے فرش تک پہنچ چکی ہیں۔
قصبے میں ایک دلچسپ اصول بھی موجود ہے جسے “سامنے والے دروازے کی پالیسی” کہا جاتا ہے۔ اس کے مطابق گھر کا مرکزی دروازہ جس ملک کی طرف کھلتا ہے گھر کو اسی ملک کا حصہ تصور کیا جاتا ہے۔ تاہم کچھ مقامات پر سرحد دروازوں کے درمیان سے بھی گزرتی ہےجس سے صورتحال مزید دلچسپ بن جاتی ہے۔
ایک شہر، دو حکومتیں اور دو نظام
بارلے ہیرتوخ میں دو حکومتیں، دو میئر، دو کونسلیں اور دو مختلف انتظامی نظام موجود ہیں۔ یہاں کے لوگ بیلجیئم کی فلیمش اور نیدرلینڈز کی ڈچ زبانیں بولتے ہیںجبکہ زیادہ تر باشندے دونوں زبانوں سے واقف ہیں۔
سرحدی زندگی کے منفرد مسائل
کورونا وبا کے دوران بھی اس قصبے کے رہائشیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ دونوں ممالک کے قوانین ایک دوسرے سے مختلف تھے۔ بعض دکانوں اور ہوٹلوں کو اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے دونوں ملکوں کے قوانین کو مدنظر رکھنا پڑا۔
صدیوں پرانی تقسیم کی دلچسپ تاریخ
اس قصبے کی تاریخ 1198 تک جاتی ہے جب زمین کی تقسیم کے باعث یہ علاقہ دو حصوں میں بٹ گیا۔ بعد میں بیلجیئم کی آزادی کے بعد سرحدی معاملات پر کئی دہائیوں تک بحث جاری رہی جس کا حتمی حل 1995 میں نکالا گیا۔
آج بارلے ہیرتوخ دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے ایک منفرد مقام ہے جہاں چند قدم چلنے پر انسان ایک ملک سے دوسرے ملک میں داخل ہو جاتا ہے۔ یہ قصبہ ثابت کرتا ہے کہ دنیا میں اب بھی ایسے مقامات موجود ہیں جو اپنی عجیب و غریب حقیقتوں سے لوگوں کو حیران کر دیتے ہیں۔