آزاد کشمیر پولیس کے ترجمان ایس ایس پی خاور علی شوکت نے پریس کانفرنس میں انکشاف کیا ہے کہ مسلح شرپسند عناصر راولاکوٹ کی مختلف عمارتوں پر مورچہ بند ہو کر پولیس اور رینجرز پر حملے کر رہے ہیں، جن کے حملوں میں ایک رینجرز اہلکار شہید ہو چکا ہے، جبکہ متعدد شرپسندوں کو گرفتار کر کے ان سے جدید اسلحہ بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔
آزاد جموں کشمیر پولیس کے ترجمان ایس ایس پی خاور علی شوکت نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ راولاکوٹ میں مسلح شرپسند عناصر گزشتہ دو روز سے شہر کی مختلف عمارتوں پر مورچہ بند ہو کر پولیس اور رینجرز پر فائرنگ کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مسلح حملہ آور شہر کی مختلف عمارتوں میں پوزیشنیں سنبھال کر سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنا رہے ہیں، اور ان کے دعوے کے مطابق ان عناصر کے ‘تانے بانے کہیں اور سے ملتے ہیں’۔
ترجمان پولیس کا کہنا تھا کہ شرپسندوں کے حملوں میں ایک رینجرز اہلکار جامِ شہادت نوش کر چکا ہے، جبکہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے متعدد مسلح افراد کو گرفتار کر لیا ہے اور گرفتار عناصر کے قبضے سے جدید اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے۔
ایس ایس پی خاور علی شوکت نے واضح کیا کہ شرپسند عناصر کو کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک دشمن عناصر سوشل میڈیا پر بھی منفی پروپیگنڈا پھیلا رہے ہیں، جبکہ سیکیورٹی فورسز اور ریاستی اداروں پر حملہ کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے مسلح جتھوں کے خلاف مسلسل کارروائیاں کر رہے ہیں۔
پولیس ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ریاستی ادارے ہمیشہ تحمل کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں، تاہم اب ریاستی اداروں کے خلاف حملہ کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ شرپسند عناصر آزاد کشمیر کے امن کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، تاہم علاقے کا امن کسی صورت تباہ نہیں ہونے دیا جائے گا۔
راولاکوٹ میں کشیدگی کا موجودہ سلسلہ کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے جڑا ہوا ہے، جو گزشتہ کچھ عرصے سے علاقے میں کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
اسی ماہ کے وسط میں بھی راولاکوٹ کی مضافات میں مسلح افراد کے حملے میں ایک رینجرز اہلکار شہید اور متعدد پولیس اہلکار زخمی ہو چکے ہیں، جس کے بعد سے علاقے میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کریک ڈاؤن جاری ہے۔
حالیہ دنوں میں گرفتار کیے گئے بعض افراد کی جانب سے دیے گئے بیانات میں یہ دعوے بھی سامنے آئے ہیں کہ مسلح عناصر کی ایک بڑی تعداد تاحال مختلف مقامات پر موجود ہے اور بعض کارندوں کو مبینہ طور پر بیرونِ ملک سے خصوصی تربیت دے کر بھیجا گیا۔
تاہم واضح رہے کہ یہ دعوے حراست میں لیے گئے افراد کے بیانات پر مبنی ہیں، جن کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق ابھی باقی ہے۔
یہ تنظیم اصل میں آزاد کشمیر میں گندم، بجلی اور مہنگائی جیسے معاشی مسائل پر برسوں سے سرگرم ایک عوامی احتجاجی اتحاد کے طور پر قائم ہوئی تھی، تاہم حالیہ مہینوں میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات کے بعد حکومت نے اسے کالعدم قرار دے دیا۔
راولاکوٹ میں جاری صورتحال آزاد کشمیر کے امن و امان کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے، خصوصاً جب رینجرز اہلکار کی شہادت جیسے واقعات مسلسل رپورٹ ہو رہے ہیں۔
سیکیورٹی حکام کا ‘آہنی ہاتھوں سے نمٹنے’ کا عزم ایک طرف امن و امان بحال کرنے کی سنجیدہ کوشش کی عکاسی کرتا ہے، تو دوسری طرف یہ خدشہ بھی جنم لیتا ہے کہ سخت کریک ڈاؤن کہیں مقامی آبادی میں مزید بے چینی اور بداعتمادی کو جنم نہ دے، خصوصاً ایسی صورت میں جب یہ تنظیم اصل میں ایک معاشی حقوق کی تحریک سے جنم لی تھی۔