انسپکٹر جنرل خیبرپختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا ہے کہ پولیس نے سوات کے علاقے مٹہ میں کارروائی کرتے ہوئے 5 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، تاہم آپریشن کے دوران پولیس کا ایک جوان بھی شہید ہوا۔
آئی جی پولیس کے مطابق سوات اور دیگر علاقوں میں سرگرم زیادہ تر دہشت گرد مقامی ہوتے ہیں، تاہم ان کے ساتھ افغان دہشت گرد بھی شامل ہوتے ہیں،انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کی افغانستان سے آمد کے حوالے سے بھی اطلاعات موجود تھیں۔
ذوالفقار حمید نے بتایا کہ ٹانک میں ہونے والے خودکش حملے میں 12 سے 14 سو کلو گرام بارودی مواد استعمال کیا گیا تھا، جبکہ حملے میں مارے گئے چاروں حملہ آور افغان تھے،انہوں نے کہا کہ تحقیقات کے مطابق اب تک ان میں سے کسی بھی حملہ آور کی پاکستانی شناخت سامنے نہیں آئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈی آئی خان اسکول حملے اور ٹانک خودکش حملے میں واضح مماثلت پائی جاتی ہے اور دونوں حملوں میں طریقہ کار تقریباً ایک جیسا تھا، آئی جی کے پی نے کہا کہ جنوبی اضلاع میں دہشت گرد نیٹو کا چھوڑا ہوا اسلحہ اور جدید ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں۔