وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے ملک میں گندم کی ممکنہ درآمد کے معاملے پر اہم فیصلہ کرتے ہوئے درآمدی طریقہ کار، ضرورت اور طلب کا تعین کرنے کے لیے اعلیٰ سطح کی اسٹیئرنگ کمیٹی قائم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
ای سی سی کے اجلاس میں گندم کی دستیابی اور ممکنہ درآمد سے متعلق مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایک اعلیٰ سطح کی اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دی جائے، جو ملک میں گندم کی مجموعی ضرورت، صوبوں کی طلب اور درآمد کے طریقہ کار سے متعلق سفارشات تیار کرے گی۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق اسٹیئرنگ کمیٹی کی سربراہی نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کریں گے۔ کمیٹی میں متعلقہ وفاقی وزرا، وفاقی سیکریٹریز، چیئرمین ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) اور چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز بھی شامل ہوں گے۔
کمیٹی ملک بھر میں گندم کی موجودہ صورتحال، دستیاب ذخائر، آئندہ ضرورت اور صوبوں کی طلب کا تفصیلی جائزہ لے گی۔ اس جائزے کی بنیاد پر گندم درآمد کرنے یا نہ کرنے اور اگر درآمد ضروری ہو تو اس کے طریقہ کار کے بارے میں حکومت کو سفارشات پیش کی جائیں گی۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ہدایت کی ہے کہ گندم کی ممکنہ درآمد کے لیے جامع عملی حکمت عملی مرتب کی جائے تاکہ ضرورت پڑنے پر بروقت فیصلے کیے جا سکیں۔ اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان رابطوں کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ گندم کی فراہمی، ذخیرہ اندوزی اور تقسیم کے معاملات میں بہتر ہم آہنگی پیدا ہو۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ اسٹیئرنگ کمیٹی کے قیام سے گندم سے متعلق فیصلوں میں شفافیت، بہتر منصوبہ بندی اور وفاق و صوبوں کے درمیان مؤثر تعاون کو فروغ ملے گا جبکہ ملک کی غذائی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے بروقت اقدامات بھی یقینی بنائے جا سکیں گے۔