سندھ حکومت نے صوبے کے 13 محکموں میں گریڈ 5 سے 15 کی خالی آسامیوں پر نئی بھرتیوں کا فیصلہ کر لیا، آئی بی اے ٹیسٹ پاس امیدواروں کے انٹرویوز پانچ اگست سے حیدرآباد ڈویژن سے شروع کیے جائیں گے۔
بھرتیوں کا شیڈول اور طریقہ کار
سندھ حکومت کی جانب سے کیے گئے فیصلے کے مطابق نئی ملازمتوں کے خواہشمند اور آئی بی اے ٹیسٹ پاس امیدواروں کے زبانی انٹرویوز ڈویژن کی سطح پر لیے جائیں گے۔
اس عمل کا آغاز 5 اگست 2026ء سے حیدرآباد ڈویژن سے کیا جائے گا اور یہ سلسلہ 25 اگست 2026ء تک جاری رہے گا۔ اس دوران صوبے کے مختلف ڈویژنز میں باری باری انٹرویوز کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ امیدواروں کو سہولت میسر آ سکے۔
کن محکموں میں بھرتیاں ہوں گی؟
نئی بھرتیوں کا دائرہ صوبے کے 13 اہم محکموں تک وسیع کیا گیا ہے۔ ان میں محکمہ توانائی، مویشی و ماہی گیری، اوقاف، زکوٰۃ و عشر و مذہبی امور اور کالج تعلیم شامل ہیں۔
اسی طرح محکمہ ورکس اینڈ سروسز، بورڈ آف ریونیو، ٹرانسپورٹ، ماس ٹرانزٹ اور کھیل و نوجوانان امور میں بھی نئی آسامیاں پُر کی جائیں گی۔
اس کے علاوہ محکمہ زراعت قیمت و رسد، محنت و افرادی قوت، اینٹی کرپشن، ثقافت و سیاحت اور وومن ڈویلپمنٹ جیسے اہم محکموں میں بھی خالی اسامیوں پر تقرریاں کی جائیں گی۔
اہلیت کا معیار کیا ہے؟
سندھ حکومت کی موجودہ پالیسی کے تحت گریڈ 5 سے 15 تک کی سرکاری ملازمتیں صرف انہی امیدواروں کو دی جاتی ہیں جو آئی بی اے کا اہلیتی ٹیسٹ پاس کر چکے ہوں۔
اس مقصد کے لیے میٹرک، انٹرمیڈیٹ اور گریجویشن کی سطح پر الگ الگ ٹیسٹ لیے جاتے ہیں، اور کامیاب امیدوار مقررہ مدت تک ان اسامیوں کے لیے اہل تصور کیے جاتے ہیں۔ اس نظام کا بنیادی مقصد بھرتیوں میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانا ہے۔
سندھ میں بھرتیوں کا تنازع اور اصلاحات
سندھ میں سرکاری بھرتیوں کا معاملہ گزشتہ کچھ عرصے سے تنازعات کا شکار رہا ہے۔ ماضی میں جعلی ڈومیسائل اور شہری و دیہی کوٹے کی خلاف ورزی پر ہزاروں ملازمتیں منسوخ کی جا چکی ہیں، جس کے بعد عدالتی احکامات کے تحت شہری اور دیہی کوٹے کی سختی سے پابندی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
ان حالات کے پیشِ نظر آئی بی اے جیسے آزاد ٹیسٹنگ ادارے کے ذریعے میرٹ پر مبنی بھرتیوں کا سلسلہ متعارف کرایا گیا تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور بے جا سفارش کلچر کا خاتمہ ہو۔
نوجوانوں کے لیے سنہری موقع یا محض اعلانات؟
سندھ حکومت کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صوبے میں بے روزگاری کی شرح میں اضافے پر تشویش پائی جاتی ہے، اس لیے 13 مختلف محکموں میں بیک وقت بھرتیوں کا اعلان یقیناً ہزاروں نوجوانوں کے لیے امید کی کرن ثابت ہو سکتا ہے۔
آئی بی اے جیسے شفاف ٹیسٹنگ نظام کے ذریعے میرٹ پر مبنی انٹرویوز کا انعقاد اس بات کی علامت ہے کہ حکومت ماضی کی بے ضابطگیوں سے سبق سیکھتے ہوئے شفافیت کو ترجیح دے رہی ہے۔
تاہم اصل امتحان عملدرآمد کے مرحلے میں ہوگا۔ سندھ میں ماضی میں کوٹہ سسٹم کی خلاف ورزیوں اور جعلی ڈومیسائل کی بنیاد پر بھرتیوں کی منسوخی جیسے واقعات پیش آ چکے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ اس بار شہری اور دیہی کوٹے کی مکمل پاسداری کی جائے تاکہ کسی بھی قسم کا تنازع جنم نہ لے۔
اسی طرح انٹرویوز کے دوران شفافیت کو یقینی بنانا اور سفارش کلچر سے مکمل اجتناب بھی اس بھرتی مہم کی کامیابی کے لیے ناگزیر ہوگا۔
اگر یہ عمل میرٹ پر مکمل طور پر عمل درآمد کے ساتھ مکمل کیا جاتا ہے تو یہ صوبے میں گڈ گورننس اور نوجوانوں کے اعتماد کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔