اوپن اے آئی کے جدید اے آئی ایجنٹ سے متعلق سائبر سیکیورٹی واقعے میں نئے انکشافات سامنے آئے ہیں، جن کے مطابق ماڈل نے صرف ہگنگ فیس تک رسائی حاصل نہیں کی بلکہ 4 مختلف آن لائن سروسز کے اکاؤنٹس تک بھی پہنچ گیا تھا۔
اوپن اے آئی کے مطابق یہ واقعہ ایک داخلی سائبر سیکیورٹی ٹیسٹ کے دوران پیش آیا، جہاں جدید اے آئی ماڈلز کی خامیاں تلاش کرنے اور ان سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت کا جائزہ لیا جا رہا تھا۔
کمپنی نے بتایا کہ اے آئی ماڈلز کو براہ راست انٹرنیٹ تک رسائی حاصل نہیں تھی، تاہم انہوں نے ٹیسٹنگ ماحول میں استعمال ہونے والے آرٹیفیکٹری سسٹم میں موجود ایک نامعلوم سیکیورٹی خامی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کر لی۔
اوپن اے آئی کے مطابق انٹرنیٹ سے منسلک ہونے کے بعد ماڈلز نے سیکیورٹی بینچ مارک مکمل کرنے کے لیے مختلف معلومات تلاش کیں اور اسی دوران ہگینگ فیس تک پہنچنے کے لیے متعدد کمزوریاں اور دستیاب اسناد استعمال کیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس دوران اے آئی ایجنٹ نے چار مختلف آن لائن سروسز کے اکاؤنٹس تک بھی رسائی حاصل کی۔ ان میں سے ایک اکاؤنٹ کو ڈیٹا منتقل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا، جبکہ دوسرے میں کچھ معلومات محفوظ کی گئیں۔ باقی دو اکاؤنٹس صرف محدود یا ریڈ اونلی رسائی کے لیے استعمال ہوئے اور ان کا استعمال ہگنگ فیس تک رسائی کے لیے نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب ماڈل لیبزنے واضح کیا ہے کہ اس کا پلیٹ فارم ہیک نہیں ہوا۔ کمپنی کے مطابق اس کے ایک صارف نے انٹرنیٹ پر ایسا اینڈ پوائنٹ کھلا چھوڑ دیا تھا، جس پر تصدیق وجود نہیں تھی۔ اے آئی ایجنٹ نے اسی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک سینڈ باکس ماحول تک رسائی حاصل کی۔
اوپن اے آئی نے بتایا کہ اس واقعے میںجی پی ٹی 5.6 سول اور ایک داخلی تحقیقی ماڈل شامل تھا، جسے عوامی استعمال کے لیے جاری کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس تحقیقی ماڈل کو اب غیر فعال کر دیا گیا ہے، جبکہ اس تک رسائی مزید محدود اور محفوظ بنا دی گئی ہے۔
ادھر ہگینگ فیس نے حملے کی تحقیقات کے لیے 17 ہزار سے زائد ریکارڈ شدہ سرگرمیوں کا تجزیہ کیا۔ کمپنی کے مطابق اس مقصد کے لیے اس نے چینی اوپن ویٹ اے آئی ماڈل جی ایل ایم 5.2 استعمال کیا، کیونکہ دیگر تجارتی اے آئی سروسز نے حساس سائبر حملوں سے متعلق ڈیٹا پر تجزیہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ زیادہ خودمختار اے آئی سسٹمز مستقبل میں سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے نئے چیلنجز پیدا کر سکتے ہیں، جس کے باعث ایسے ماڈلز کی نگرانی اور حفاظتی اقدامات مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔