وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا انحصار پیٹرولیم لیوی میں کمی پر ہے تاہم متبادل ریونیو پلان کے بغیر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے اس کی منظوری ملنے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت لیوی میں کمی سے ہونے والے ریونیو خسارے کا قابل عمل متبادل پیش کر دے تو آئی ایم ایف اس تجویز پر غور کر سکتا ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی میں کمی کی خواہاں ہے لیکن اس فیصلے کے لیے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیوی کم ہونے سے قومی خزانے کو ہونے والے نقصان کا کوئی متبادل ذریعہ موجود نہ ہو تو منظوری حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا۔
لیوی میں کمی کے لیے متبادل آمدن ضروری
علی پرویز ملک نے بتایا کہ اگر حکومت ایسا ریونیو پلان پیش کرتی ہے جس سے لیوی میں کمی کے باعث ہونے والا خسارہ پورا کیا جا سکے تو ممکن ہے آئی ایم ایف اس پر رضامند ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پیٹرولیم لیوی کی موجودہ شرح ماضی میں جنگی حالات کے دوران نافذ کی گئی شرح سے بھی کم ہے، اس کے باوجود مالیاتی اہداف کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
اجلاس کے دوران کمیٹی ارکان نے پیٹرولیم مصنوعات کی روزانہ قیمتوں کے تعین کے نظام پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے عوام پر اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔
اس پر وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے قیمتوں کے تعین کے عمل سے سیاسی مداخلت ختم کر دی ہے اور یہ اختیار مکمل طور پر آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو دے دیا گیا ہے تاکہ عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے مطابق شفاف انداز میں فیصلے کیے جا سکیں۔
قیمتیں خام تیل نہیں بلکہ سنگاپور مارکیٹ سے منسلک ہیں
اوگرا کے چیئرمین نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں براہ راست خام تیل کی عالمی قیمت سے نہیں بلکہ سنگاپور مارکیٹ کے بینچ مارک سے منسلک کی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ روزانہ قیمتوں کے تعین کا نظام عالمی منڈی میں اچانک آنے والی تبدیلیوں کے اثرات کو بتدریج صارفین تک منتقل کرتا ہے، جس سے قیمتوں میں ایک دم بڑے اضافے یا کمی سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے۔
کمیٹی کے رکن سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے روزانہ قیمتوں میں ردوبدل کے نظام پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے عوام کے لیے “سلو پوائزن” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ عام شہری نہ تو قیمتوں کے تعین کا پیچیدہ طریقہ کار سمجھ سکتا ہے اور نہ ہی روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی تبدیلیوں کا بوجھ برداشت کر سکتا ہے۔
آئل رگز کے آڈٹ پر کمیٹی کی برہمی
اجلاس میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے آئل رگز کی کارکردگی کا آڈٹ نہ ہونے پر بھی سخت ناراضی کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ سات روز کے اندر کارکردگی سے متعلق آڈٹ رپورٹ جمع کرائی جائے تاکہ اس معاملے کا جائزہ لیا جا سکے۔
اوگرا چیئرمین کی تقرری پر وضاحت
اوگرا کے مستقل چیئرمین کی تقرری میں تاخیر سے متعلق سوال پر وفاقی وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ پہلے موزوں امیدوار نہ ملنے کی وجہ سے تقرری کا عمل دوبارہ شروع کرنا پڑا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ جلد ہی اس اہم عہدے پر مستقل تقرری عمل میں لائی جائے گی۔
وفاقی وزیر کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مستقبل میں نمایاں کمی کا انحصار نہ صرف عالمی منڈی کی صورتحال بلکہ پیٹرولیم لیوی، حکومتی مالیاتی پالیسی اور آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے فیصلوں پر بھی ہوگا۔