امریکا کے جو لیگون کی زندگی کی کہانی دنیا کی طویل ترین قید کاٹنے والے نابالغ قیدیوں میں شمار کی جاتی ہے۔ وہ صرف 15 برس کی عمر میں جیل گئے اور تقریباً 68 سال بعد 83 سال کی عمر میں آزادی کی ہوا میں سانس لیا۔
جو لیگون کو 1953ء میں ایک سنگین مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ کئی دہائیوں تک قید میں رہنے کے بعد انہیں فروری 2021ء میں رہائی ملی۔ اس دوران دنیا میں بے شمار تبدیلیاں آ چکی تھیں، جن کا انہوں نے جیل کی دیواروں کے اندر رہتے ہوئے کبھی مشاہدہ نہیں کیا۔
رہائی کے بعد جو لیگون نے خود کو ایک ایسی دنیا میں پایا جہاں اسٹریٹ کاریں ماضی کا حصہ بن چکی تھیں، بلند و بالا عمارتیں شہروں کا منظر بدل چکی تھیں، جبکہ رنگین ٹی وی، انٹرنیٹ، اسمارٹ فونز اور سوشل میڈیا روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکے تھے۔
ماہرین کے مطابق جو لیگون کی رہائی صرف ایک شخص کی آزادی کی کہانی نہیں بلکہ یہ اس بات کی بھی یاد دہانی ہے کہ طویل قید کسی انسان کو وقت کے دھارے سے کس حد تک دور کر سکتی ہے۔
واضح رہے کہ جو لیگون نے اپنی سزا کے دوران پیرول قبول کرنے سے انکار کیا تھا کیونکہ اس کے لیے جرم کا اعتراف ضروری تھا، جبکہ وہ خود کو قتل کے الزام میں قصوروار نہیں مانتے تھے۔ بعد ازاں عدالتی فیصلوں اور قوانین میں تبدیلی کے بعد انہیں رہائی ملی۔ جو لیگون کی زندگی آج بھی امریکا کے نظامِ انصاف، نابالغ ملزمان کے حقوق اور طویل سزاؤں سے متعلق اہم بحث کا موضوع سمجھی جاتی ہے۔