ایران پر’دوسری جنگِ عظیم کے بعد سب سے بڑے حملے کی تیاری کا انکشاف، اب بھی ایسا کر سکتے ہیں، پیٹ ہیگسیتھ کا دعویٰ

ایران پر’دوسری جنگِ عظیم کے بعد سب سے بڑے حملے کی تیاری کا انکشاف، اب بھی ایسا کر سکتے ہیں، پیٹ ہیگسیتھ کا دعویٰ

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے انکشاف کیا ہے کہ ایران پر دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑے حملے کرنے کے لیے تیار تھے تاہم اسے فی الحال مؤخر کیا گیا ہے، لیکن ایران کے خلاف بڑی فوجی کارروائی مؤخر ہونے کے باوجود امریکی افواج بدستور غیرمعمولی جنگی تیاری کی حالت میں ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق مجوزہ کارروائی ‘دوسری جنگِ عظیم کے بعد سب سے بڑا حملہ’ ہوتی، تاہم علاقائی ممالک کی سفارتی کوششوں کے بعد اسے فی الحال روک دیا گیا ہے۔

امریکی وزیر دفاع کا سخت انتباہ

امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ امریکی فوج ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور اس کی جنگی تیاری اس سطح پر موجود ہے جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد کم ہی دیکھی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:ایران جنگ کا مقصد امریکا کے وجود کو محفوظ بنانا تھا،پیٹ ہیگسیتھ

پیٹ ہیگسیتھ نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ امریکی محکمہ دفاع کارروائی کے لیے تیار تھا اور اب بھی تیار ہے۔ انہوں نے اپنے مختصر مگر سخت پیغام میں امریکی فوج کو ‘مکمل طور پر تیار’ قرار دیا۔

تاہم یہاں صحافتی اعتبار سے ایک اہم فرق موجود ہے۔ ‘دوسری جنگِ عظیم کے بعد سب سے بڑا حملہ’ ہونے کا دعویٰ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کیا، جبکہ پیٹ ہیگسیتھ نے امریکی فوج کی تیاری کی سطح کو دوسری جنگِ عظیم کے بعد کی غیرمعمولی تیاری سے تشبیہ دی۔

ٹرمپ نے بڑے حملے کا منصوبہ مؤخر کردیا

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکا ایران پر ایک انتہائی بڑی فوجی کارروائی شروع کرنے کے لیے تیار تھا، تاہم سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات اور ایران کی جانب سے مزید وقت مانگے جانے پر حملہ روک دیا گیا۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مجوزہ کارروائی ایران کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی تھی اور اس کا حجم دوسری جنگِ عظیم کے بعد کیے جانے والے بڑے حملوں سے بھی زیادہ ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نے حملہ منسوخ نہیں بلکہ فوری معاہدے کی امید پر مؤخر کیا ہے۔

امریکی صدر کے مطابق ممکنہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے، ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق امریکی خدشات دور کرنے اور خطے میں مزید فوجی کارروائیاں روکنے جیسے معاملات شامل ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوئی تو فوجی کارروائی کا راستہ دوبارہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔

سعودی عرب اور خلیجی ممالک کی سفارتی مداخلت

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے ایران کے خلاف بڑے حملوں سے گریز اور کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کو ترجیح دینے پر زور دیا۔

قطر، متحدہ عرب امارات اور عمان نے بھی سفارتی رابطوں کے ذریعے واشنگٹن اور تہران کے درمیان کسی ممکنہ سمجھوتے کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی۔ خلیجی ممالک کو خدشہ ہے کہ ایران کے خلاف نئی امریکی کارروائی پورے خطے کو جنگ کی لپیٹ میں لے سکتی ہے اور تیل و گیس کی تنصیبات، بندرگاہوں اور اہم بحری راستوں کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

علاقائی ممالک کی تشویش کی ایک بڑی وجہ آبنائے ہرمز بھی ہے، جہاں سے تاریخی طور پر دنیا کی تیل اور گیس کی تجارت کا تقریباً 20 فیصد حصہ گزرتا رہا ہے۔ اس راستے میں طویل رکاوٹ عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں، بحری تجارت اور رسد کے نظام کو بری طرح متاثر کرسکتی ہے۔

ایران نے امریکی دعوؤں کو نفسیاتی جنگ قرار دے دیا

ایرانی حکام نے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ تہران نے امریکا سے حملہ روکنے کی درخواست کی تھی۔ ایران کے قائم مقام وزیر دفاع مجید ابن الرضا نے امریکی بیانات کو ’نفسیاتی اور ادراکی جنگ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تہران ہر دھمکی کو سنجیدگی سے لے رہا ہے اور اپنی دفاعی تیاری میں مزید اضافہ کرے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی خبردار کرچکے ہیں کہ امریکا یا اسرائیل کی جانب سے کسی نئی کارروائی کا ‘فیصلہ کن اور متناسب’ جواب دیا جائے گا۔

مزید پڑھیں:امریکی صدر نے ایران پر حملے کا فیصلہ وزیردفاع پیٹ ہیگستھ کے کھاتے میں ڈال دیا

تہران کا مؤقف ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کررہا، جبکہ واشنگٹن کا اصرار ہے کہ ایران کو یورینیم افزودگی اور میزائل پروگرام سے متعلق قابل تصدیق ضمانتیں دینا ہوں گی۔

مذاکرات کا نیا مرحلہ

ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان نئے مذاکرات 3 اگست کو شروع ہونا تھے، تاہم انہوں نے مقام، شرکا اور بات چیت کے طریقہ کار کی مکمل تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔

رپورٹس کے مطابق قطر، عمان اور پاکستان مختلف مراحل پر واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطوں میں کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے نئے انتظامات پر بات چیت آخری مراحل میں ہے، مگر تہران نے اسے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے یا بند کرنے کے معاملے سے الگ قرار دیا ہے۔

امریکا کی جنگی صلاحیت کتنی بڑی ہے؟

امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے جاری کردہ اعداد وشمار امریکی فوجی تیاری کے حجم کی ایک جھلک پیش کرتے ہیں۔ سرکاری دستاویز کے مطابق ایران کے خلاف ‘آپریشن ایپک فیوری’ کا آغاز 28 فروری 2026 کو کیا گیا تھا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے ابتدائی 29 روز کے دوران11,000 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنانے، 11,000 سے زیادہ جنگی پروازیں کرنے، 150 سے زیادہ ایرانی بحری جہازوں کو تباہ یا نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا تھا۔

اس کارروائی میں اسٹیلتھ بمبار طیاروں، لڑاکا جہازوں، نگرانی اور حملہ آور ڈرونز، جوہری آبدوزوں، طیارہ بردار بحری جہازوں، فضائی دفاعی نظام اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کے استعمال کا بھی ذکر کیا گیا۔

جنگ بندی سے دوبارہ حملوں تک

امریکی انتظامیہ کی سرکاری دستاویز کے مطابق 7 اپریل 2026 کو جنگ بندی شروع ہوئی، جس کے بعد 17 جون کو ایران اور امریکا کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت طے پائی تھی۔ اس مفاہمت میں خلیج فارس سے بحیرہ عمان تک تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کی کوشش شامل تھی۔

مزید پڑھیں:آج رات ایران پر بڑے حملے ، اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا جائیگا،امریکی وزیر جنگ کی دھمکی

واشنگٹن کا الزام ہے کہ 6 جولائی کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے غیر جانب دار تجارتی جہازوں پر حملے کیے گئے، جس کے جواب میں امریکی افواج نے 7 جولائی سے ایران میں میزائل مقامات، فضائی دفاعی نظام، بحری اثاثوں، فوجی تنصیبات اور کمانڈ مراکز کو دوبارہ نشانہ بنانا شروع کیا۔ ایران امریکی الزامات اور یک طرفہ بیانیے کو مسترد کرتا رہا ہے۔

ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی

ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ امریکا ضرورت پڑنے پر ایران کے بیشتر پلوں کو ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں تباہ اور بجلی گھروں کو ایک دن کے اندر غیر فعال کرسکتا ہے۔

ان کے مطابق ایسا قدم تقریباً 91 ملین ایرانی شہریوں کو بجلی اور بنیادی سہولتوں سے محروم کرسکتا ہے، تاہم وہ کسی معاہدے کے ذریعے اس صورتحال سے بچنا چاہتے ہیں۔ انسانی اور بین الاقوامی قانون کے تناظر میں شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے سے متعلق ایسے بیانات نے عالمی سطح پر سنگین خدشات کو جنم دیا ہے۔

دھمکی، دباؤ یا حقیقی جنگ کی تیاری؟

پیٹ ہیگسیتھ اور ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کو محض جذباتی بیان بازی قرار دینا درست نہیں ہوگا، کیونکہ امریکا پہلے ہی ایران کے خلاف وسیع فوجی کارروائیاں کرچکا ہے اور خطے میں اس کے بھاری فوجی اثاثے موجود ہیں۔ اس لیے واشنگٹن کی دھمکی کے پیچھے عملی صلاحیت بھی موجود ہے۔

دوسری جانب ‘دوسری جنگِ عظیم کے بعد سب سے بڑا حملہ’ جیسی زبان بظاہر ایران کو فوری رعایتیں دینے پر مجبور کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

امریکا ایک طرف مذاکرات کی پیشکش کررہا ہے، جبکہ دوسری جانب تباہ کن حملے کی دھمکی دے کر تہران پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔ اسے سفارتی زبان میں ‘فوجی دباؤ کے سائے میں مذاکرات’ کہا جاسکتا ہے۔

یہ پڑھیں:امریکا فضائی کنٹرول حاصل کرنے میں بھی ناکام، ایران کی خفیہ ٹیکنالوجی نے پینٹاگون کو ہلا کر رکھ دیا ہے، امریکی میڈیا کا انکشاف

یہ بھی واضح ہے کہ خلیجی ممالک کسی نئی جنگ کے سب سے پہلے متاثرین بن سکتے ہیں۔ ایران پر حملے کی صورت میں تہران امریکی اڈوں، اسرائیلی تنصیبات، تیل کے میدانوں یا خلیج میں بحری راستوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب، قطر، امارات اور عمان فوجی تصادم کے بجائے سفارتی راستہ کھلا رکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔

حملہ مؤخر ہونے کا مطلب خطرہ ختم ہونا نہیں۔ امریکی فوج کی تیاری برقرار ہے، ایران نے جوابی کارروائی کا انتباہ واپس نہیں لیا اور کسی جامع معاہدے کا باضابطہ اعلان بھی سامنے نہیں آیا۔

آنے والے مذاکرات ناکام ہوئے تو معمولی فوجی واقعہ، بحری جہاز پر حملہ یا کسی امریکی اڈے کو نقصان ایک بار پھر وسیع جنگ کا دروازہ کھول سکتا ہے۔

فی الحال دونوں فریق طاقت کے مظاہرے کے ساتھ مذاکرات کی میز پر موجود ہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ امریکا حملہ کرسکتا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا واشنگٹن اور تہران تباہ کن نتائج سے پہلے کسی قابل عمل معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں۔

Related Articles