پاکستان سمیت 4 ممالک کے عازمینِ عمرہ کے لیے نئی پالیسی متعارف، فوڈ واؤچر بھی شامل

پاکستان سمیت 4 ممالک کے عازمینِ عمرہ کے لیے نئی پالیسی متعارف، فوڈ واؤچر بھی شامل

سعودی عرب نے پاکستان سمیت 4 ممالک کے عمرہ زائرین کے لیے یومیہ 20 سعودی ریال مالیت کے لازمی فوڈ واؤچرز کا اجرا کر دیا ہے جن کی کُل رقم براہِ راست ویزا فیس میں شامل ہوگی۔

 اس نئی پالیسی سے عمرہ پیکجز کی مجموعی لاگت میں اضافہ متوقع ہے، جبکہ دوسری جانب وزارت مذہبی امور نے سال 2027 سے 2030 تک کے حج رجسٹریشن کے اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے عوام کو جعلی اشتہارات سے خبردار کیا ہے۔

عمرہ زائرین کے لیے لازمی فوڈ واؤچرز کی نئی پالیسی

سعودی حکومت کی جانب سے شروع کی گئی اس تازہ ترین پالیسی کے تحت پاکستان سمیت مخصوص 4 ممالک سے آنے والے تمام زائرین کے لیے یومیہ 20 سعودی ریال کا نسک فوڈ واؤچر خریدنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:عمرہ زائرین کی تعداد میں پاکستان سب پر بازی لے گیا، 22 فیصد سے زائد اضافہ

یہ طریقہ کار زائرین کو معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، تاہم اس کی اضافی لاگت براہِ راست مجموعی عمرہ ویزا فیس میں جڑے گی جس سے ملک بھر کے ٹریول ایجنٹس اپنے پرانے پیکجز اور نرخوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

حج 2027 تا 2030، رجسٹریشن اور پاسپورٹ کی لازمی شرط

وزارت مذہبی امور کے مطابق سال 2027 سے 2030  کے دوران فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے رجسٹریشن کرانے والے شہریوں کی تعداد 3 لاکھ 81 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔

چونکہ رجسٹریشن کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد اب باضابطہ اگلا مرحلہ جلد شروع ہونے والا ہے، اس لیے وزارت نے تمام خواہشمند افراد کو ہدایت کی ہے کہ وہ بروقت تیاری کریں اور کم از کم 16 نومبر 2027 تک کارآمد رہنے والا پاسپورٹ لازمی طور پر تیار رکھیں۔

جعلی اشتہارات سے بچاؤ اور مستند ذرائع کا استعمال

سوشل میڈیا پر حج و عمرہ کے حوالے سے گردش کرنے والے جعلی اور فریب پر مبنی اشتہارات پر قابو پانے کے لیے وزارت مذہبی امور نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ترجمان نے واضح کیا ہے کہ عوام ایسے من گھڑت اشتہارات کو یکسر نظر انداز کریں اور دھوکہ باز عناصر کو فوری طور پر رپورٹ کریں۔

مزید پڑھیں:خادم الحرمین الشریفین کیجانب سے ایک ہزار عمرہ زائرین کی میزبانی کی منظوری

زائرین کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی مصدقہ اور مستند معلومات کے لیے صرف اور صرف وزارت مذہبی امور کی آفیشل اور مجاز موبائل ایپلیکیشنز کا استعمال کریں۔

حالیہ برسوں کے دوران سعودی حکومت نے دنیا بھر سے آنے والے زائرین اور عازمین کو بہترین سہولیات، شفافیت اور معیاری خدمات فراہم کرنے کے لیے ڈیجیٹل سسٹمز اور نِسک پلیٹ فارم پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے۔

اسی حکمت عملی کے تحت عمرہ اور حج کے نظام کو مزید مربوط بنایا جا رہا ہے تاکہ زائرین کو سفر کے دوران خوراک، رہائش اور ٹرانسپورٹ کے حوالے سے کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

سعودی عرب کا یہ نیا قدم بظاہر زائرین کی سہولت اور ان کے کھانے پینے کے امور کو بہتر بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے، لیکن دوسری طرف اس سے معاشی دباؤ میں بھی اضافہ ہوگا۔

مزید پڑھیں:سعودی حکومت کی عمرہ زائرین کو 18 اپریل تک ملک چھوڑنے کا حکم

پاکستان جیسے ممالک جہاں پہلے ہی مہنگائی کی لہر موجود ہے، وہاں اس 20 ریال یومیہ اضافے سے مڈل کلاس طبقے کے لیے عمرہ کا سفر مزید مہنگا ہو جائے گا۔

ٹریول ایجنٹس کو بھی اس تبدیلی کے بعد اپنے کاروباری ماڈل کو نئے سرے سے ترتیب دینا ہوگا۔ اس کے علاوہ، حج کے حوالے سے بڑھتی ہوئی رجسٹریشن اور وزارت کی جانب سے شفافیت پر زور دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت زائرین کو فراڈ سے بچانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، تاہم ان پالیسیوں سے عام آدمی پر پڑنے والے مالی بوجھ کو مدنظر رکھنا بھی انتہائی ضروری ہے۔

Related Articles