بجلی کا بل آدھا کرنا ہے ؟ آسان فارمولا جان لیں

بجلی کا بل آدھا کرنا ہے ؟ آسان فارمولا جان لیں

ملک بھر میں بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافے کے باعث گھریلو صارفین شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں ہر ماہ بجلی کا بل متوسط اور کم آمدنی والے خاندانوں کے بجٹ پر اضافی بوجھ بن رہا ہے تاہم توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صارفین چند سادہ مگر مؤثر عادتیں اپنا لیں تو وہ اپنے ماہانہ بجلی کے بل میں 20 سے 40 فیصد تک کمی لا سکتے ہیں۔

 گھروں میں سب سے زیادہ بجلی ایئر کنڈیشنر، الیکٹرک گیزر، فریج، استری، واشنگ مشین اور پانی کی موٹر استعمال کرتی ہے ان آلات کو درست طریقے سے استعمال کرنے سے نہ صرف بجلی کی بچت ہوتی ہے بلکہ بل میں بھی نمایاں کمی آتی ہے۔

1۔ اے سی کا درجہ حرارت 26 ڈگری پر رکھیں

 ایئر کنڈیشنر کو 26 ڈگری سینٹی گریڈ پر چلانا بجلی بچانے کا سب سے مؤثر طریقہ ہے ہر ایک ڈگری کم کرنے سے کمپریسر پر زیادہ دباؤ پڑتا ہے اور بجلی کی کھپت 6 سے 8 فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔ کمرہ ٹھنڈا ہونے کے بعد اے سی بند کر کے پنکھا استعمال کرنا بھی بل کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

2۔ ایل ای ڈی بلب استعمال کریں

عام بلب اور پرانی ٹیوب لائٹس کے مقابلے میں ایل ای ڈی بلب تقریباً 80 فیصد کم بجلی استعمال کرتے ہیں۔ اگر گھر کے تمام بلب ایل ای ڈی میں تبدیل کر دیے جائیں تو سالانہ ہزاروں روپے کی بچت ممکن ہے، جبکہ ان کی عمر بھی زیادہ ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اب مہنگا موبائل پیکج لینے کی ضرورت نہیں، پی ٹی اے نے آسان حل بتا دیا

3۔ غیر ضروری برقی آلات فوراً بند کریں

اکثر گھروں میں لائٹس، پنکھے، ٹی وی یا چارجر استعمال نہ ہونے کے باوجود آن رہتے ہیں ایسی عادتیں ماہانہ بل میں نمایاں اضافہ کرتی ہیں۔ کمرہ چھوڑتے وقت تمام غیر ضروری آلات بند کرنا معمول بنا لینا چاہیے۔

4۔ انورٹر اور انرجی ایفیشنٹ آلات خریدیں

اگر نیا فریج اے سی یا دیگر برقی سامان خریدنا ہو تو انورٹر یا انرجی ایفیشنٹ ماڈلز کو ترجیح دیں اگرچہ ان کی قیمت نسبتاً زیادہ ہوتی ہے لیکن یہ عام آلات کے مقابلے میں کم بجلی استعمال کرتے ہیں اور چند سال میں اپنی اضافی قیمت پوری کر دیتے ہیں۔

5۔ فریج کا درست استعمال کریں

فریج کو دیوار سے کم از کم چھ سے آٹھ انچ فاصلے پر رکھیں تاکہ کمپریسر کو مناسب ہوا مل سکے گرم کھانا فوراً فریج میں نہ رکھیں اور دروازہ بار بار کھولنے سے گریز کریں کیونکہ اس سے فریج زیادہ دیر تک چلتا ہے اور بجلی زیادہ خرچ ہوتی ہے۔

6۔ بھاری لوڈ والے آلات ایک ساتھ نہ چلائیں

استری واشنگ مشین الیکٹرک گیزر اور مائیکرو ویو جیسے زیادہ بجلی استعمال کرنے والے آلات ایک ہی وقت میں چلانے سے بجلی کی کھپت بڑھ جاتی ہے بہتر ہے کہ ان کا استعمال مختلف اوقات میں کیا جائے تاکہ غیر ضروری لوڈ سے بچا جا سکے۔

7۔ پانی کی موٹر صرف ضرورت کے وقت چلائیں

پانی کی موٹر کو غیر ضروری طور پر چلتا چھوڑ دینا بجلی کے ضیاع کی بڑی وجہ ہے۔ پانی کی ٹینکی میں اوور فلو یا پائپ لائن کی لیکیج بھی موٹر کو زیادہ دیر تک چلنے پر مجبور کرتی ہے، اس لیے لیکیج کی فوری مرمت ضروری ہے۔

8۔ سولر سسٹم یا نیٹ میٹرنگ سے فائدہ اٹھائیں

اگر مالی استطاعت ہو تو سولر سسٹم نصب کرنا طویل مدت میں بہترین سرمایہ کاری ثابت ہو سکتا ہے۔ نیٹ میٹرنگ کے ذریعے اضافی بجلی قومی گرڈ میں فراہم کر کے صارف اپنے بل میں مزید کمی لا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:خراب بجلی میٹر تبدیل کرانے کے قواعد بدل گئے، صارفین کیلئے بڑی خوشخبری

9۔ بجلی کے یونٹس پر نظر رکھیں

ہر ہفتے یا ہر چند روز بعد میٹر ریڈنگ نوٹ کریں تاکہ اندازہ رہے کہ کتنے یونٹس استعمال ہو رہے ہیں۔ اس طرح زیادہ یونٹس خرچ ہونے کی صورت میں بروقت احتیاط کی جا سکتی ہے اور زیادہ ٹیرف سلیب میں جانے سے بچا جا سکتا ہے۔

10۔ ماہانہ میٹر ریڈنگ اور بل کا ریکارڈ محفوظ رکھیں

ہر ماہ آنے والے بل اور میٹر ریڈنگ کا ریکارڈ رکھنے سے یہ معلوم ہوتا رہتا ہے کہ بجلی کی کھپت میں غیر معمولی اضافہ کیوں ہوا۔ اگر بل میں اچانک فرق نظر آئے تو فوری طور پر متعلقہ بجلی تقسیم کار کمپنی سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف اے سی کی درست سیٹنگ، ایل ای ڈی بلبوں کا استعمال اور غیر ضروری برقی آلات بند رکھنے جیسی چند عادتیں اپنانے سے ہی ہر ماہ ہزاروں روپے کی بچت ممکن ہے۔ ان کے مطابق بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافے کے پیش نظر توانائی کی بچت صرف مالی ضرورت نہیں بلکہ قومی ذمہ داری بھی ہے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles