راولاکوٹ، پونچھ آزاد کشمیر میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے ڈیڑھ ماہ سے جاری دھرنے اور روڈ بلاک کی کارروائیوں سے تنگ آ کر عوام نے سخت کارروائی کا مطالبہ کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں مقامی شہری سڑکوں پر بھاری درخت گرا کر راستے بند کرنے، ایمبولنسز اور راشن سے لدے ٹرکوں کے پھنس جانے اور سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ کے واقعات پر کھل کر برہم نظر آ رہے ہیں۔
دھرنے کی وجوہات اور روزمرہ زندگی کا فل سٹاپ
آزاد کشمیر کے خطے راولاکوٹ میں پچھلے 45 دن سے جاری اس دھرنے نے عام آدمی کی زندگی مفلوج کر کے رکھی ہوئی ہے۔
مظاہرین کی جانب سے مرکزی شاہراہوں پر بڑے بڑے درخت کاٹ کر گرائے گئے ہیں، جس سے شہر کا رابطہ باقی علاقوں سے مکمل کٹ چکا ہے۔
اس صورتحال کا سب سے بڑا نقصان روزانہ کی بنیاد پر کمانے والے مزدوروں، چھوٹے تاجروں اور دور دراز سے آنے والے مسافروں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔
ایمبولنسز اور راشن کے ٹرک پھنس گئے
ویڈیوز میں شہریوں نے بتایا کہ روڈ بڑے درختوں کے ساتھ بند ہونے کی وجہ سے اسپتال جانے والی ایمبولنسز بھی اسپتال تک نہیں پہنچ پا رہی ہیں، جس سے مریضوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔
اس کے علاوہ روزمرہ استعمال کی اشیا اور راشن سے لدے ٹرک کھلے آسمان تلے کھڑے ہیں اور ڈرائیور شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ جو عناصر غریب کا نوالہ اور روٹی کا حق چھین لیں، وہ عوامی نمائندے نہیں بلکہ خالصتاً عوام دشمن عناصر اور غنڈے ہیں۔
سیکیورٹی فورسز پر حملے اور قانون کی مخدوش صورتحال
وائرل ویڈیوز میں شہریوں کا کہنا ہے کہ جب قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سیکیورٹی فورسز بند راستوں کو کھولنے کے لیے موقع پر پہنچتی ہیں، تو نام نہاد شرپسند گلیوں اور اونچی عمارتوں سے ان پر فائرنگ کرتے ہیں۔
اس پرتشدد رویے نے عوام کو شدید خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا ہے اور عام شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان غنڈہ عناصر کے خلاف اب مزید تاخیر کیے بغیر آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔
واضح رہے کہ اس تمام صورتحال کا پس منظر دیکھا جائے تو عوامی ایکشن کمیٹی پچھلے کچھ عرصے سے مختلف مطالبات کی آڑ میں احتجاجی مظاهرے کر رہی ہے۔
ابتدا میں ان مطالبات کو عوامی رنگ دیا گیا تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب دھرنے کا دائرہ کار طول پکڑتا گیا اور عام شہریوں کے بنیادی حقوق سلب ہونے لگے، تو اس تحریک کے طریقہ کار پر سنگین سوالیہ نشان لگ گئے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ مقامی آبادی خود اس دھرنے کے خلاف سڑکوں پر آ چکی ہے۔
عوامی حمایت کا خاتمہ اور ریاست کی رٹ کا چیلنج
اس پورے معاملے کو اگر غیر جانبدارانہ تجزیہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کوئی بھی تحریک اس وقت تک کامیاب رہتی ہے جب تک اسے عوام کی تائید حاصل ہو۔ لیکن راولاکوٹ میں جس طرح زبردستی راستے بند کیے گئے، مریضوں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور فورسز پر گولیاں برسائی گئیں، اس سے اس کمیٹی نے اپنی اخلاقی اور عوامی برتری مکمل طور پر کھو دی ہے۔
اب یہ تحریک عوام کی فلاح نہیں بلکہ ان کے لیے ایک عذاب بن چکی ہے۔ حکومت اور انتظامیہ کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ وہ فوری طور پر رٹ بحال کرے تاکہ عام آدمی کا استحصال روکا جا سکے۔