کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی سے منسوب سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ یا مبینہ طور پر ڈیجیٹل ترمیم شدہ تصاویر شیئر کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے شہریوں پر تشدد کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اوورسیز جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے فیس بک پیج پر شیئر کی جانے والی متعدد تصاویر کے بارے میں سوشل میڈیا صارفین اور مبصرین نے سوالات اٹھائے ہیں۔ ان تصاویر میں بعض مناظر کو حالیہ حالات سے جوڑ کر پیش کیا گیا، تاہم ان کی صداقت اور اصل ماخذ کے حوالے سے شکوک و شبہات سامنے آئے ہیں۔
ایک ہی افراد مختلف تصاویر میں مختلف حالت میں نظر آئے
گردش کرنے والی ایک تصویر میں چند افراد کو زمین پر پڑا دکھایا گیا اور دعویٰ کیا گیا کہ انہیں گولیاں لگی ہیں۔ تاہم بعد میں سامنے آنے والی دیگر تصاویر اور ویڈیوز میں بظاہر یہی افراد کھڑے ہو کر چلتے ہوئے اور پولیس اہلکاروں کے ساتھ جاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، جس کے بعد ابتدائی دعوؤں پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان متضاد مناظر نے سوشل میڈیا پر شیئر کیے جانے والے مواد کی صداقت کے بارے میں مزید شکوک پیدا کر دیے ہیں۔
اسی طرح ایک اور تصویر، جس میں ایک شخص کو اسلحہ تھامے دکھایا گیا ہے، اس کے بارے میں بھی بعض صارفین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ممکن ہے اسے مصنوعی ذہانت یا ڈیجیٹل ایڈیٹنگ کے ذریعے تیار یا تبدیل کیا گیا ہو۔ مبصرین کے مطابق تصویر میں ہاتھوں کی ساخت، انگلیوں کی پوزیشن اور اسلحے کی گرفت میں غیر معمولی تضاد دیکھا جا سکتا ہے، جو اکثر اے آئی سے تیار کردہ تصاویر میں سامنے آنے والی خامیوں سے مشابہت رکھتا ہے۔
غیر مصدقہ مواد شیئر کرنے سے گریز کی اپیل
ڈیجیٹل میڈیا ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر اور ویڈیوز کی تصدیق پہلے سے زیادہ اہم ہو گئی ہے۔ ماہرین نے عوام پر زور دیا ہے کہ کسی بھی تصویر یا ویڈیو کو شیئر کرنے سے قبل اس کے ماخذ اور صداقت کی جانچ ضرور کریں تاکہ گمراہ کن معلومات اور غلط پروپیگنڈے کے پھیلاؤ سے بچا جا سکے۔