جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ فضل الرحمن نے کہا ہے کہ محمود خان اچکزئی متحدہ اپوزیشن کا اجلاس بلائیں تاکہ قومی مسائل پر مشاورت کی جا سکے، تاہم اگر ایسا نہ کیا گیا تو جمعیت علماء اسلام آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلائے گی۔
کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فضل الرحمن نے وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں وضاحت کرنی چاہیے کہ انہوں نے کس حیثیت میں یہ بیان دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر نظام ناکام ہو چکا ہے تو محسن نقوی حکومت کو مستعفی ہونے کا مشورہ دیں یا پھر خود اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں۔
فضل الرحمن نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام اصولی طور پر نئے صوبوں کے قیام کی مخالف نہیں، تاہم موجودہ حالات میں یہ سوال اہم ہے کہ آیا نئے صوبوں کے قیام کے لیے یہی مناسب وقت ہے یا نہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جمعیت علماء اسلام نے بلوچستان میں حکومت کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں سب سے بڑی اسٹریٹ پاور جمعیت علماء اسلام کے پاس ہے، جبکہ نوجوانوں کو جذبات میں آ کر تحریک چلانے کے بجائے تجربہ کار سیاست دانوں کی رہنمائی پر عمل کرنا چاہیے۔
جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے بلوچستان کی امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے حالات ابتر ہو چکے ہیں، مسلح گروہ سرگرم ہیں، عوام عدم تحفظ کا شکار ہیں، لوگ نہ اپنے علاقوں میں جا سکتے ہیں اور نہ ہی اپنے گھروں میں خود کو محفوظ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک چلانے والے اس صورتحال سے غافل ہیں اور اس وقت کوئی ایسی قومی پالیسی موجود نہیں جو ملک کو درپیش بحرانوں سے نکال سکے۔
پریس کانفرنس کے موقع پر جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع، بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میر یونس عزیز زہری، ارکان صوبائی اسمبلی میر زابد علی ریکی اور فضل قادر مندوخیل، جے یو آئی کے رہنما ملک سکندر خان ایڈووکیٹ، آغا محمود شاہ سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔