وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں اور بے بنیاد الزامات پھیلانے کا رجحان تشویشناک ہے، فیک نیوز کی روک تھام وقت کی اہم ضرورت ہے اور کسی کی پگڑی اچھالنا صحافت نہیں۔
سی پی این ای کے عہدیداروں سے گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ سوشل میڈیا پر گالم گلوچ، جھوٹی خبروں اور بے بنیاد الزامات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس سے معاشرے میں انتشار پیدا ہوتا ہے۔
ثبوت کے بغیر الزام ناقابل قبول
انہوں نے کہا کہ جو بھی کسی پر الزام لگائے اسے اپنے دعوے کے ثبوت بھی پیش کرنے چاہئیں،ان کا کہنا تھا کہ غلط کو غلط کہنا ضروری ہے اور کسی بھی خبر کی اشاعت یا نشر سے قبل متعلقہ فریق کا مؤقف ضرور لیا جانا چاہیے۔
صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ بیرون ملک موجود بعض یوٹیوبرز پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کر رہے ہیں، تاہم کسی کو بھی ملک دشمن بیانیہ پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،انہوں نے کہا کہ صحافت ایک انتہائی ذمہ دارانہ پیشہ ہے اور حکومت صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔
طلبہ کے لیے حکومتی اقدامات
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے طلبہ کے لیے وظائف اور لیپ ٹاپ فراہم کیے ہیں، جبکہ بلوچستان کے طلبہ کو بھی وظائف اور لیپ ٹاپ پروگرام میں شامل کیا گیا ہے۔
اپنی غلطی کا اعتراف
وزیر اطلاعات نے کہا کہ سوشل میڈیا پر الزام لگانے والوں کو ہیرو نہیں بنایا جانا چاہیے،انہوں نے اعتراف کیا کہ ماضی میں ان سے بھی ایک غلطی ہوئی تھی، جس پر وہ آج بھی شرمندہ ہیں کیونکہ انہیں غلط معلومات فراہم کی گئی تھیں۔