آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم کون ہونگے؟ نام سامنے آگیا

آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم کون ہونگے؟ نام سامنے آگیا

آزاد جموں و کشمیر میں عام انتخابات کے بعد وزیراعظم کے عہدے کے لیے مسلم لیگ (ن) کی جانب سے متوقع امیدوار کا نام سامنے آگیا ہے ۔ جبکہ دوسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی نے ایک پولنگ اسٹیشن پر مبینہ انتخابی دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے صحافی سہیل رشید نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے شاہ غلام قادر وزارت عظمیٰ کے لیے مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق شاہ غلام قادر ضلع نیلم سے کامیاب ہوئے ہیں، جبکہ سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کے اس بار اس منصب تک پہنچنے کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کے مطابق وزیراعظم آزاد کشمیر کے لیے میرپور سے چوہدری محمد سعید اور مظفرآباد سے بیرسٹر افتخار گیلانی کے نام بھی زیر غور آ سکتے ہیں۔

ادھر پاکستان پیپلزپارٹی نے حلقہ ایل اے-27 مظفرآباد-1 (کوٹلہ) کے پولنگ اسٹیشن نمبر 92، فاریسٹ منڈل، میونسپل کمیٹی پٹیکہ میں مبینہ دھاندلی کی ویڈیو الیکشن کمیشن آزاد جموں و کشمیر کو جمع کراتے ہوئے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر انتخابات: کوٹلہ سے نورین عارف، لچھراٹ سے سید بازل نقوی کامیاب

پیپلزپارٹی کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے مبینہ طور پر جعلی ووٹ کاسٹ کیے، جبکہ پریذائیڈنگ افسر اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں انجام دینے میں ناکام رہے۔ پارٹی کے مطابق ویڈیو میں ایسے مناظر موجود ہیں جن میں پریذائیڈنگ افسر کے نماز کی ادائیگی کے دوران مبینہ طور پر بیلٹ پیپرز پر مہریں لگائی جاتی رہیں۔

پیپلزپارٹی کے امیدوار جاوید ایوب کی جانب سے الیکشن کمیشن میں جمع کرائی گئی شکایت میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مذکورہ پولنگ اسٹیشن پہلے بھی شکایات کا مرکز رہا ہے اور اس بار ویڈیو شواہد بھی سامنے آ گئے ہیں۔ شکایت کے مطابق مبینہ جعلی ووٹنگ میں ملوث افراد کو موقع پر پکڑا گیا اور متعلقہ شواہد الیکشن کمیشن کے حوالے کیے گئے، تاہم اس کے باوجود مبینہ طور پر ووٹنگ کا عمل جاری رہا۔

یہ بھی پڑھیں: مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل ناگزیر، صدر، وزیراعظم کا یومِ استحصال پر پیغام

پیپلزپارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ ویڈیو شواہد کی بنیاد پر فوری تحقیقات کی جائیں، انتخابی قوانین کی مبینہ خلاف ورزی کا نوٹس لیا جائے اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

Related Articles