عمرہ زائرین کے لیے نئی پالیسی متعارف ،یکم ربیع الاول سے نافذ ہوگی

عمرہ زائرین کے لیے نئی پالیسی متعارف ،یکم ربیع الاول سے نافذ ہوگی

عمرہ زائرین کے لیے نئی پالیسی متعارف کرا دی گئی ہے جس کے بعد پاکستان سے جانے والوں کے اخراجات بڑھنے کا امکان پیدا ہوگیا ہے ،سعودی عرب نے پاکستان سمیت مختلف ممالک سے آنے والے عمرہ زائرین کے لیے نئی پالیسی متعارف کرا دی ہے، جس کے تحت عمرہ ویزا حاصل کرنے کے لیے نسک فوڈ واؤچر کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے، نئی شرط کے باعث عمرہ پیکیجز کی مجموعی لاگت میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی حکومت نے پاکستان، بھارت، مصر اور بنگلہ دیش سے آنے والے عمرہ زائرین کے لیے کھانے کے واؤچر کا نظام متعارف کرایا ہے، جس کی رقم عمرہ ویزا کی مجموعی فیس میں شامل کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں :عمرہ زائرین کی تعداد میں پاکستان سب پر بازی لے گیا، 22 فیصد سے زائد اضافہ

نئے نظام کے تحت ہر عمرہ زائر کو روزانہ تقریباً 20 سعودی ریال کھانے کی مد میں ادا کرنا ہوں گے، جو ویزا پروسیسنگ کے دوران خودکار طور پر شامل کیے جائیں گے۔

پیکیجز مہنگے ہونے کا امکان

لازمی فوڈ واؤچر شامل ہونے کے بعد عمرہ پیکیجز کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے،پاکستان سمیت متاثرہ ممالک کے ٹریول ایجنٹس نے اضافی اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے عمرہ پیکیجز پر نظرثانی شروع کر دی ہے،ٹریول انڈسٹری سے وابستہ افراد کے مطابق نئی پالیسی کے بعد عمرہ زائرین کے لیے مجموعی اخراجات کا تخمینہ نئے سرے سے تیار کرنا ہوگا۔

نسک پلیٹ فارم سے سہولت

سعودی حکام نے عمرہ انتظامات کو جدید بنانے کے لیے ہوٹل، ٹرانسپورٹ، کھانے اور دیگر سہولیات کو نسک ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ساتھ منسلک کر دیا ہے۔

اس نظام کے تحت مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے تقریباً 10 ہزار رجسٹرڈ ریسٹورنٹس کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم کا حصہ بنایا گیا ہے تاکہ زائرین کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

زائرین کو خصوصی کوڈ ملے گا

نئے نظام کے مطابق ہر عمرہ زائر کو ویزے کے ساتھ ایک خصوصی کوڈ فراہم کیا جائے گا، جسے استعمال کرکے وہ رجسٹرڈ ریسٹورنٹس سے مقررہ معیار کے مطابق کھانا حاصل کر سکیں گے،یہ کوڈ کھانے کی فراہمی کے نظام کو منظم بنانے اور زائرین کو سہولت فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

معیار بہتر بنانے کا مقصد

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد عمرہ زائرین کو معیاری اور حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق کھانے کی سہولت فراہم کرنا ہے،حکام کے مطابق نئی پالیسی کے ذریعے سروس کا معیار بہتر ہوگا جبکہ غیر رجسٹرڈ اور غیر معیاری کیٹرنگ سروسز کی حوصلہ شکنی بھی کی جا سکے گی۔

editor

Related Articles