’انگولا میں سبز ہلالی پرچم بلند‘، منیشا علی نے میزبان فائٹر کو چت کر کے گولڈ میڈل نام کر لیا

’انگولا میں سبز ہلالی پرچم بلند‘، منیشا علی نے میزبان فائٹر کو چت کر کے گولڈ میڈل نام کر لیا

گلگت بلتستان کے خطے ہنزا سے تعلق رکھنے والی پاکستانی فائٹر منیشا علی نے انگولا میں منعقدہ ’آئی ایم ایم اے ایف‘ ڈیپانڈا اوپن ورلڈ کپ 2026 کے فائنل میں میزبان کھلاڑی کو شکست دے کر طلائی تمغہ اپنے نام کر لیا ہے۔

انگولا کے دارالحکومت لوانڈا میں کھیلے گئے ’آئی ایم ایم اے ایف‘ ڈیپانڈا اوپن ورلڈ کپ 2026 کے سنسنی خیز فائنل میں ہنزا کی منیشا علی نے میزبان ملک کی باصلاحیت فائٹر لیونیلا آئسابیل بلائی کو ناکوں چنے چبوا دیے<

/h4>

میچ کے دوران پاکستانی کھلاڑی نے زبردست تحرک اور حواس پر قابو رکھتے ہوئے بہترین کھیل پیش کیا۔ مقابلے کے دوسرے ہی راؤنڈ میں منیشا نے انتہائی مہارت کے ساتھ ’اسٹینڈنگ گیلوٹین‘ موو کا استعمال کرتے ہوئے حریف کو سبمشن پر مجبور کر دیا اور ورلڈ کپ کا طلائی تمغہ پاکستان کی جھولی میں ڈال دیا۔

گلگت بلتستان کا نیا نام اور عالمی پہچان

یہ شاندار کامیابی مکسڈ مارشل آرٹس (‘ایم ایم اے’) کی دنیا میں پاکستان کے ابھرتے ہوئے اثر و رسوخ کا واضح ثبوت ہے۔ منیشا علی کی اس بین الاقوامی کامیابی نے گلگت بلتستان اور بالخصوص ہنزا کے خطے سے مارشل آرٹس کے ابھرتے ہوئے نئے ٹیلنٹ کو عالمی افق پر نمایا ں کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:آئی ایم ایم اے ایف ورلڈ چیمپئن شپ میں پاکستانی فائٹرز چھا گئے

ہنزا کے عوام کے لیے یہ فتح فخر کا ایک اور بڑا لمحہ ہے، جہاں کی خواتین ایتھلیٹس مختلف کھیل کے میدانوں میں عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کر کے ملک کا نام روشن کر رہی ہیں۔

اگر پاکستان میں رزمیہ کھیلوں کا پس منظر دیکھا جائے تو حالیہ چند برسوں کے دوران ملک میں مکسڈ مارشل آرٹس کا رجحان تیزی سے بڑھا ہے۔

بالخصوص گلگت بلتستان جیسے پہاڑی علاقوں میں بنیادی سہولیات اور وسائل کی کمی کے باوجود، مقامی نوجوانوں اور بالخصوص خواتین نے اپنی ذاتی محنت، جذبے اور لگن کے بل بوتے پر عالمی سطح پر جگہ بنائی ہے۔ اس سے قبل بھی خطے کے متعدد کھلاڑی بین الاقوامی مقابلوں میں تمغے جیت کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں۔

واضح رہے کہ منیشا علی کی یہ فتح محض ایک تمغہ نہیں بلکہ پاکستان میں غیر روایتی کھیلوں کے روشن مستقبل کی علامت ہے۔

فائنل میں جس تکنیکی مہارت اور کنٹرول کے ساتھ انہوں نے سیکنڈ راؤنڈ میں ‘اسٹینڈنگ گیلوٹین’ ٹیکنیک پر عمل درآمد کیا، وہ ان کی اعلا درجے کی جسمانی اور ذہنی تربیت کی غمازی کرتا ہے۔

اگر حکومت اور اسپورٹس بورڈز گلگت بلتستان کے دور افتادہ علاقوں کے ان ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کو جدید ترین سہولیات اور سرکاری سرپرستی فراہم کریں، تو وہ وقت دور نہیں جب پاکستان عالمی مارشل آرٹس کے میدان میں ایک بڑی اور ناقابلِ تسخیر طاقت بن کر ابھرے گا۔

Related Articles