ایف بی آر نے آئرن اینڈ اسٹیل سیکٹر کی 100 منتخب کمپنیوں پر بجلی کے استعمال کی مد میں نیا سیلز ٹیکس عائد کر دیا ہے، جس کے باعث اسٹیل مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ایف بی آر کی جانب سے جاری کیے گئے نئے سیلز ٹیکس جنرل آرڈر کے تحت اسٹیل صنعت کے مینوفیکچررز، میلٹرز، ری رولرز اور کمپوزٹ یونٹس سے بجلی کے ہر یونٹ پر 5 روپے کے حساب سے سیلز ٹیکس وصول کیا جائے گا۔
نیا ٹیکس نافذ
ایف بی آر کے مطابق متعلقہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں (ڈسکوز) اسٹیل سیکٹر کی مذکورہ کمپنیوں کے بجلی بلوں میں فی یونٹ 5 روپے سیلز ٹیکس شامل کرکے وصولی کریں گی،یہ ٹیکس ان کمپنیوں پر لاگو ہوگا جو آئرن اینڈ اسٹیل کی پیداوار سے وابستہ ہیں اور مخصوص شرائط پر پورا اترتی ہیں۔
نئے سیلز ٹیکس کا اطلاق اسٹیل کے میلٹرز، ری رولرز اور کمپوزٹ یونٹس پر ہوگا، اس کے علاوہ وہ کمپنیاں بھی اس دائرے میں آئیں گی جو اسکریپ کی درآمد سے متعلق مقررہ شرائط پوری کرتی ہیں،ایف بی آر کا کہنا ہے کہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنانے اور اسٹیل سیکٹر میں ٹیکس وصولیوں کو بہتر بنانے کے لیے یہ اقدام کیا گیا ہے۔
قیمتوں میں اضافے کا خدشہ
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بجلی کے استعمال پر اضافی ٹیکس عائد ہونے سے اسٹیل کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کا اثر مستقبل میں سریا اور دیگر اسٹیل مصنوعات کی قیمتوں پر پڑنے کا امکان ہے۔
نوٹیفکیشن جاری
ایف بی آر کے مطابق نئے حکم کا اطلاق 4 اگست 2026 کو جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے تحت ہوگا، جبکہ متعلقہ ادارے اس فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنائیں گےحکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد اسٹیل سیکٹر میں ٹیکس نظام کو منظم کرنا اور قومی خزانے کے لیے ریونیو میں اضافہ کرنا ہے۔