پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے 27 ستمبر کے مجوزہ احتجاج سے قبل پارٹی رہنماؤں کے اشتعال انگیز اور دھمکی آمیز بیانات منظرِ عام پر آ گئے ہیں، جنہیں مبصرین نے خانہ جنگی اور ریاستی رٹ چیلنج کرنے کی مذموم کوشش قرار دیا ہے۔
دستیاب شواہد اور تفصیلات کے مطابق پرامن احتجاج کی آڑ میں مبینہ طور پر ایک شرپسندانہ ایجنڈا سامنے آنے لگا ہے۔
27 ستمبر کے احتجاج کے حوالے سے ’پی ٹی آئی‘ قیادت کے حالیہ بیانات واضح کر رہے ہیں کہ اس احتجاج کا مقصد جلاؤ گھیراؤ ہے۔
پی ٹی آئی کی قیادت کے ساتھ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں انتہائی اشتعال انگیز گفتگو کرتے ہوئے حالات کو خانہ جنگی کی طرف جانے کا انتباہ دیا ہے۔
انہوں نے فائرنگ کی دھمکی دیتے ہوئے نوجوانوں کے جذبات کو ابھارا اور یہاں تک کہہ دیا کہ خیبر پختونخوا کا ہر نوجوان بدمعاش ہے۔
مزید برآں، انہوں نے پاکستان کے معاشی حب، کراچی کو بند کرنے اور خون بہانے جیسے سنگین بیانات دیے ہیں اور اس احتجاج کو ‘آزادی یا موت’ سے تشبیہ دیتے ہوئے پوری طاقت استعمال کرنے کا اعلان کیا ہے۔
قومی تنصیبات اور دارالحکومت پر حملے کے اعلانات
صرف وزیر اعلیٰ ہی نہیں، بلکہ دیگر صوبائی رہنماؤں کے بیانات بھی ریاستی مخالف جذبات کو ہوا دے رہے ہیں۔
’پی ٹی آئی‘ خیبر پختونخوا کے صدر جنید اکبر نے اسلام آباد کو ’سومنات‘ قرار دے کر اس پر 17 حملے کرنے کی دھمکی دی ہے۔
اسی طرح پارٹی رہنماؤں اقبال آفریدی اور فضل الہٰی کی جانب سے تربیلا ڈیم، ورسک ڈیم اور کرک کی گیس سپلائی بند کرنے کے بیانات سامنے آئے ہیں۔
ان اعلانات کو ملکی مفاد کو داؤ پر لگانے اور معیشت کو تباہ کرنے کی کھلی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان بھی طاقت کے زور پر پورے ملک کو بند کرنے اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کا کہہ چکے ہیں۔
9 مئی اور پرتشدد احتجاج کی تاریخ
واضح رہے کہ ’پی ٹی آئی‘ کا احتجاجی ریکارڈ پہلے ہی تنازعات اور ہنگامہ آرائی کا شکار رہا ہے۔ 9 مئی، 26 نومبر اور 8 اکتوبر جیسے پرتشدد واقعات اس جماعت کی مبینہ انتشاری سوچ اور پسِ پردہ عزائم کو بے نقاب کر چکے ہیں۔
ماضی میں بھی نام نہاد پرامن احتجاج کے نام پر سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے کرنے کی روایت قائم کی گئی ہے، جو اب 27 ستمبر کی کال کے ذریعے دوبارہ دہرائے جانے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سیاسی جماعت یا عسکریت پسند ونگ؟
ان حالات کا جائزہ لیا جائے تو موجودہ صورتحال ریاستی سلامتی کے لیے انتہائی تشویشناک ہے۔ ان لگاتار اشتعال انگیز بیانات کے بعد سیاسی مبصرین یہ کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ ‘پی ٹی آئی’ ایک جمہوری سیاسی جماعت کا کردار ادا کرنے کے بجائے مبینہ طور پر دہشتگرد تنظیموں کے سیاسی ونگ کے طور پر کام کر رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا منصب ایک اعلیٰ آئینی ذمہ داری کا متقاضی ہے۔ ان کی جانب سے صوبے میں دہشتگردی کی روک تھام کے بجائے، ملک کے دیگر حصوں میں انتشار پھیلانے کی ترغیب دینا انتہائی افسوسناک ہے۔
اگر سیاسی قائدین ہی خانہ جنگی، ڈیموں کی بندش اور دارالحکومت پر حملوں کی ترغیب دیں گے، تو اس سے ملک میں لاقانونیت کو فروغ ملے گا، جس سے نمٹنا ریاست کے لیے ایک کڑا چیلنج بن چکا ہے۔