وزیر دفاع خواجہ آصف اور امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر کے درمیان ملاقات میں علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کے لیے مسلسل رابطوں اور تعمیری مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا گیا، جبکہ پاکستان اور امریکا نے باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
وزارت دفاع کے مطابق امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے بدھ کو اسلام آباد میں وزیر دفاع خواجہ آصف سے ملاقات کی، جس میں علاقائی اور عالمی سلامتی کی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران خواجہ آصف نے کہا کہ خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے دونوں ممالک کے درمیان مسلسل رابطے، تعمیری مکالمہ اور باقاعدہ سفارتی مشاورت انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔
وزارت دفاع کے بیان کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور امریکا کے درمیان دفاع سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ ملاقات خوشگوار اور مثبت ماحول میں ہوئی، جس میں دونوں ممالک نے باہمی دلچسپی کے معاملات پر مستقل رابطے اور تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
دفاعی اور سفارتی روابط میں پیش رفت
اس سے قبل گزشتہ ماہ امریکی ریاست مونٹانا سے رکن ایوان نمائندگان ریان کیتھ اور ریاست واشنگٹن سے رکن ایوان نمائندگان مائیکل جیمز نے پاکستان کا دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی۔
امریکی وفد نے خطے میں امن و استحکام اور معاشی مضبوطی کے فروغ میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور ادارہ جاتی روابط مزید بہتر بنانے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔
پاکستان اور امریکا کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں، جن میں دفاع، انسداد دہشت گردی، تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی استحکام سمیت مختلف شعبوں میں تعاون شامل رہا ہے۔
اگرچہ مختلف ادوار میں دونوں ممالک کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ آتا رہا، تاہم سفارتی، عسکری اور اقتصادی سطح پر رابطے برقرار رہے ہیں۔
حالیہ مہینوں میں امریکا، ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے بعد پاکستان کی جانب سے جنگ بندی اور سفارتی کوششوں کی حمایت کو دونوں ممالک کے تعلقات میں مثبت پیش رفت کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔