ایران کے پاس کتنا تیل باقی رہ گیا؟ امریکی وزیر خزانہ کا بڑا دعویٰ

ایران کے پاس کتنا تیل باقی رہ گیا؟ امریکی وزیر خزانہ کا بڑا دعویٰ

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے پاس اس وقت تقریباً ڈیڑھ کروڑ بیرل تیل باقی رہ گیا ہے اور تہران کے لیے موجودہ صورتحال میں تیل کی برآمدات جاری رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ 

  انہوں نے کہا کہ  ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع کے خاتمے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آسکتی ہے۔

تیل کی برآمد پر پابندی

امریکی وزیر خزانہ نے امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ امریکا ایرانی تیل کو بیرون ملک جانے یا برآمد ہونے کی اجازت نہیں دے رہا۔

اسکاٹ بیسنٹ نے دعویٰ کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے قائم کی گئی ’’فولادی ناکہ بندی‘‘ برقرار ہے اور اس پالیسی کے نتیجے میں ایران کی تیل کی برآمدات شدید دباؤ میں ہیں۔

ایران پر معاشی دباؤ

امریکی وزیر خزانہ کے مطابق ایران آئندہ دو ہفتوں میں تیل کے عوض اشیا حاصل کرنے کی صلاحیت سے بھی محروم ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں تہران موجودہ دباؤ کو محسوس کر رہا ہے اور اسی وجہ سے وہ معاہدے کی خواہش رکھتا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی امریکی ہم منصب سے ملاقات، دو طرفہ معاشی تعاون بڑھانے پر اتفاق

بیسنٹ کے بیان کے مطابق ایران کے لیے تیل کی فروخت اور اس کے بدلے ضروری اشیا حاصل کرنا موجودہ صورتحال میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔

امریکی حکام کی جانب سے عائد پابندیوں اور تیل کی نقل و حرکت محدود کرنے کی کوششوں کو ایران پر معاشی دباؤ کے ایک ذریعے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

تیل کی قیمتوں پر اثر

اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ایران کے ساتھ تنازع ختم ہونے کی صورت میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی متوقع ہے۔

انہوں نے  کہا کہ موجودہ صورتحال میں تیل کی سپلائی اور عالمی مارکیٹ پر دباؤ موجود ہے  تاہم تنازع کے خاتمے سے قیمتوں میں کمی کا امکان پیدا ہوسکتا ہے۔

انہوں نے گفتگو کے دوران امریکی اجازت سے تیل کی نقل و حمل اور ایرانی تیل کی برآمد کے حوالے سے بھی دعوے کیے۔

  امریکا کی اجازت سے ایک ارب بیرل تیل منتقل ہوا، جبکہ ایران سے ایک بیرل تیل بھی برآمد نہیں ہونے دیا جا رہا۔

ایرانی عسکری صلاحیت کا دعویٰ

امریکی وزیر خزانہ نے تنازع کے دوران ایران کی عسکری صلاحیتوں کو پہنچنے والے نقصان کا بھی ذکر کیا۔

ان کا دعویٰ تھا کہ ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

بیسنٹ کے مطابق ایران کی 85 سے 90 فیصد میزائل فیکٹریاں تباہ کردی گئی ہیں۔

دو ہفتوں کی مدت کا ذکر

اسکاٹ بیسنٹ نے اپنے بیان میں بار بار آئندہ دو ہفتوں کی مدت کا حوالہ دیا۔  انہوں نے کہا کہ  اس عرصے کے دوران ایران چین کو تیل کی آخری کھیپ بھیج سکتا ہے ۔

 یہ بھی پڑھیں :امریکہ ایران کشیدگی میں اضافے سے عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا، قیمتوں میں 7 فیصد سے زائد اضافہ

امریکی وزیر خزانہ نے ان حالات کو ایران پر بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ سے جوڑا اور کہا کہ تہران اسی وجہ سے معاہدے کی طرف بڑھنے کی خواہش رکھتا ہے۔

امریکی مؤقف

امریکی وزیر خزانہ کے تازہ بیان میں ایران کے تیل کے ذخائر، برآمدات، عالمی تیل کی قیمتوں اور عسکری صلاحیتوں سے متعلق متعدد دعوے سامنے آئے ہیں۔

 ان دعوؤں کے مطابق واشنگٹن ایرانی تیل کی بیرون ملک ترسیل روکنے کی پالیسی پر قائم ہے اور اسے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

دوسری جانب فراہم کردہ معلومات میں ایرانی حکومت کی جانب سے ان دعوؤں پر تازہ ردعمل شامل نہیں کیا گیا۔

 ایرانی تیل کے باقی ذخیرے اور میزائل فیکٹریوں کو پہنچنے والے نقصان سے متعلق امریکی اعداد و شمار کو امریکی وزیر خزانہ کے بیان سے منسوب کرکے دیکھا جا رہا ہے۔

editor

Related Articles