ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے دعویٰ کیا کہ تیل کی موجودہ قیمت جنگ سے قبل کی سطح کے مقابلے میں تقریباً 35 ڈالر فی بیرل زیادہ ہے۔
عالمی منڈی میں قیمتوں کا یہ فرق امریکی مؤقف کے بارے میں سوال پیدا کرتا ہے۔
تیل کی قیمتوں کا حوالہ
قالیباف نے اپنے بیان میں عالمی تیل مارکیٹ کی صورتحال کو اپنے مؤقف کے حق میں بطور مثال پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر آبنائے ہرمز سے متعلق امریکی دعوے درست تسلیم کیے جائیں تو پھر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے موجودہ رجحان کی بھی وضاحت ضروری ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا عالمی مارکیٹ حقیقتاً اس قدر بے یقینی کا شکار ہے کہ تیل کی قیمتیں مسلسل جنگ سے پہلے کی سطح سے نمایاں زیادہ رہیں یا پھر امریکی بیانیہ صورتحال کی مکمل عکاسی نہیں کرتا۔
امریکی بیانیے پر تنقید
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے امریکی اطلاعاتی مؤقف پر بھی سخت تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی پروپیگنڈا مشین حقائق کو مختلف انداز میں پیش کر رہی ہے ۔
قالیباف نے طنزیہ انداز میں کہا کہ یا تو عالمی مارکیٹ مکمل طور پر ’’اندھیر نگری‘‘ کا شکار ہے یا پھر امریکی بیانیے میں ہی مسئلہ موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے امریکی دعووں کے درمیان واضح سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت
آبنائے ہرمز خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان واقع ایک اہم سمندری گزرگاہ ہے اور عالمی توانائی کی ترسیل میں اس کی اہمیت غیر معمولی سمجھی جاتی ہے۔
خطے میں کشیدگی بڑھنے کی صورت میں اس آبی گزرگاہ سے متعلق کوئی بھی پیش رفت عالمی توانائی مارکیٹ اور تیل کی قیمتوں پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔
ایرانی مؤقف میں اسی اہمیت کو سامنے رکھتے ہوئے عالمی تیل مارکیٹ کے اعداد و شمار کا حوالہ دیا گیا ہے۔
تاہم فراہم کردہ بیان میں امریکی حکام کی جانب سے ایرانی مؤقف کے جواب یا آبنائے ہرمز پر کنٹرول سے متعلق امریکی دعوے کی مزید تفصیلات شامل نہیں ہیں۔
خطے کی صورتحال
آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایران اور امریکا کے درمیان بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں سکیورٹی اور توانائی سے متعلق معاملات عالمی توجہ کا مرکز ہیں۔
ایرانی حکام ماضی میں بھی آبنائے ہرمز کی اہمیت اور خطے میں کسی بھی فوجی پیش رفت کے ممکنہ اثرات پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔