دنیا کی معروف ترین میراتھون ریسز میں شامل برلن میراتھون کے 52ویں ایڈیشن میں پاکستانی اور پاکستانی نژاد رنرز نے بھرپور شرکت کرتے ہوئے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
42.195 کلومیٹر پر مشتمل اس ریس میں تقریباً دو درجن پاکستانی فنشرز نے مقررہ فاصلہ مکمل کیا جبکہ ماہین شیخ اور عائشہ اختر نے ورلڈ میراتھون میجرز کا سکس اسٹار اعزاز حاصل کرکے اہم سنگ میل عبور کرلیا۔
عزیر بٹ نمایاں
لاہور میں پیدا ہونے والے اور امریکا کے شہر بوسٹن میں مقیم محمد عزیر بٹ پاکستانی رنرز میں نمایاں رہے۔ انہوں نے اپنی پہلی مکمل میراتھون تین گھنٹے، 21 منٹ اور 27 سیکنڈ میں مکمل کی۔
ہیلتھ کیئر کنسلٹنٹ عزیر بٹ نے ریس کے ابتدائی 10 کلومیٹر 42 منٹ 43 سیکنڈ میں طے کیے، جبکہ ہاف میراتھون تک پہنچنے میں ایک گھنٹہ 30 منٹ 38 سیکنڈ کا وقت لیا۔
ریس کے دوسرے حصے میں رفتار کچھ کم ہونے کے باوجود انہوں نے مضبوط اختتام کرتے ہوئے مقررہ وقت میں فنش لائن عبور کی۔
عزیر بٹ کا کہنا تھا کہ دنیا کے بڑے میراتھون اسٹیجز میں پاکستان کی نمائندگی کرنا ان کے لیے ایک خاص تجربہ تھا۔ پاکستانی پرچم کے ساتھ برلن کی سڑکوں پر دوڑنے اور شائقین کی حوصلہ افزائی کو انہوں نے یادگار قرار دیا۔
منیر عمران کی عمدہ ریس
کراچی سے تعلق رکھنے والے 19 سالہ منیر عمران نے بھی توجہ حاصل کی۔ ڈبلیو این پی رننگ کلب سے وابستہ منیر نے میراتھون کا پہلا نصف ایک گھنٹہ 53 منٹ 39 سیکنڈ میں مکمل کیا جبکہ دوسرے نصف کے لیے تقریباً ایک گھنٹہ 51 منٹ 28 سیکنڈ لیے۔
یوں انہوں نے نیگیٹو اسپلٹ کے ساتھ ریس مکمل کی، یعنی دوسرے نصف میں ان کی رفتار پہلے نصف کے مقابلے میں بہتر رہی۔ آخری 2.195 کلومیٹر انہوں نے صرف 11 منٹ 3 سیکنڈ میں مکمل کیے اور مجموعی وقت تین گھنٹے 45 منٹ 7 سیکنڈ رہا۔
ماہین شیخ کا سکس اسٹار
ماہین شیخ کے لیے برلن میراتھون ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔ انہوں نے تین گھنٹے 56 منٹ 8 سیکنڈ میں ریس مکمل کرکے دنیا کی چھ بڑی میراتھونز مکمل کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔
ماہین نے سکس اسٹار کا سفر دو سال پانچ ماہ میں مکمل کیا۔ ان کے مطابق برلن ریس سے پہلے انہیں جسمانی تکلیف کا سامنا تھا اس لیے انہوں نے اپنی توقعات بھی محدود رکھی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ کورس فلیٹ ہونے کے باوجود رنرز کی بڑی تعداد کے باعث مسلسل رفتار برقرار رکھنا آسان نہیں تھا، جبکہ ریس کے آخری مرحلے میں دھوپ بھی تیز ہوگئی۔
ماہین نے بتایا کہ انہوں نے 2023 کے آخر میں صرف 13 ہفتوں کی تیاری کے بعد اپنی پہلی مکمل میراتھون دوڑی تھی۔
بچپن میں ٹانگ کی انجری کے باعث کھیلوں سے دور رہنے والی ماہین کے مطابق سکس اسٹار کے سفر نے انہیں اپنی صلاحیتوں کے بارے میں نیا اعتماد دیا۔
عائشہ اختر بھی اعزاز کی حق دار
پاکستانی نژاد امریکی رنر عائشہ اختر نے بھی برلن میراتھون مکمل کرتے ہوئے سکس اسٹار کا سفر پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ انہوں نے 42.195 کلومیٹر کا فاصلہ چار گھنٹے 53 منٹ 33 سیکنڈ میں طے کیا۔
فلسطین سے اظہار یکجہتی
کراچی سے تعلق رکھنے والے برٹش پاکستانی محمد طارق نے اپنی پہلی میراتھون کے دوران فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی بھی کیا۔
انہوں نے فلسطینی پرچم اور کفایہ کے ساتھ ریس میں حصہ لیا اور پانچ گھنٹے 2 منٹ 52 سیکنڈ میں فنش لائن عبور کی۔
محمد طارق نے بتایا کہ انہوں نے فلسطینی پرچم اور ’’فری فلسطین‘‘ کا پیغام نمایاں کیا۔
ان کے مطابق مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے رنرز اور تماشائیوں کی جانب سے اظہارِ حمایت ان کے لیے خاص تجربہ تھا۔
22 پاکستانی فنشرز
برلن میراتھون میں فراہم کردہ فہرست کے مطابق پاکستانی یا پاکستانی نژاد 22 رنرز نے ریس مکمل کی۔
محمد صمد صدیقی نے تین گھنٹے 25 منٹ 44 سیکنڈ کے ساتھ دوسری بہترین پاکستانی ٹائمنگ حاصل کی، جبکہ بلال عمر اور کینیڈا میں مقیم سیف اللہ نے بالترتیب تین گھنٹے 47 منٹ 9 سیکنڈ اور تین گھنٹے 48 منٹ 10 سیکنڈ میں ریس مکمل کی۔
دیگر فنشرز میں عمران غیور احمد، محمد زبیر عمر، حماد علی، خالد شیخ، فاطمہ چوہدری، عمر انصاری، مہوش حنیف، فرہاد ناصر، جنید میمن، محمد ریحان رفیع، سلیمہ علی، فہد ندیم، محمد زبیری اور عامر انور بھگت شامل رہے۔
عالمی سطح کی ریس
برلن میراتھون ایبٹ ورلڈ میراتھون میجرز کا حصہ ہے اور اس کے 52ویں ایڈیشن میں 162 ممالک سے 56 ہزار سے زائد رنرز شریک ہوئے۔
42.195 کلومیٹر طویل ریس کا راستہ جرمن دارالحکومت کے مختلف علاقوں اور اہم مقامات سے گزرتا ہے، جبکہ آخری مرحلے میں رنرز تاریخی برانڈنبرگ گیٹ سے گزر کر فنش لائن کی طرف بڑھتے ہیں۔
مینز ایلیٹ ریس میں ایتھوپیا کے گوئے اڈولا نے دو گھنٹے 2 منٹ 50 سیکنڈ کے وقت کے ساتھ کامیابی حاصل کی جبکہ خواتین کی ریس میں ایتھوپیا ہی کی ٹگسٹ اسیفا نے دو گھنٹے 11 منٹ 4 سیکنڈ میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔
برلن میراتھون میں پاکستانی رنرز کی شرکت نے نہ صرف مختلف ممالک میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی کھیلوں میں موجودگی کو نمایاں کیا بلکہ ماہین شیخ اور عائشہ اختر کی جانب سے سکس اسٹار مکمل کیے جانے نے بھی اس ایونٹ کو پاکستانی رننگ کمیونٹی کے لیے یادگار بنا دیا۔