امریکہ کی جانب سے تنازع کے حل اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق ایران کی تجویز مسترد کیے جانے کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق پیر کو عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 1.82 ڈالر یا 1.74 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد فی بیرل تیل کی قیمت 106.14 ڈالر ہوگئی۔
رپپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 1.14 ڈالر یا 1.23 فیصد اضافے کے بعد 93.55 ڈالر فی بیرل رہی۔
ایران کی تجویز مسترد
امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی 7 روزہ جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشیروں سے کہا کہ نومبر مڈٹرم کے بعد ایران پر بمباری دوبارہ شروع ہوسکتی ہے کیونکہ صدر ٹرمپ کو یقین نہیں کہ تہران ان کے مطالبات مانے گا۔
گزشتہ ہفتے برینٹ کی قیمت میں 0.4 فیصد اضافہ ہوا، تاہم WTI کی قیمت 7.9 فیصد گر گئی،اس کی بڑی وجہ یہ خدشہ تھا کہ امریکا ریکارڈ بلند قیمتوں پر قابو پانے کے لیے ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد کر سکتا ہے، جس سے امریکی ریفائننگ پیداوار بھی متاثر ہوسکتی ہے۔
امریکا میں ڈیزل کی ریکارڈ قیمتیں
امریکا میں ڈیزل کی ریکارڈ قیمتیں مہنگائی کے خطرات میں اضافہ کر رہی ہیں اور امریکی ڈیزل برآمدات پر ممکنہ پابندی کی بحث دوبارہ زور پکڑ رہی ہے۔
دوسری جانب Kpler کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کے اہم تیل پیدا کرنے والے ممالک سے خام تیل کی برآمدات ستمبر میں بڑھ کر 12.8 ملین بیرل یومیہ ہوگئیں، جو فروری میں جنگ شروع ہونے کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل بھی بحال ہوئی ہے اور رواں ماہ یہ تقریباً 7.4 ملین بیرل یومیہ تک پہنچنے کا امکان ہے، سعودی عرب نے حملوں میں اپنی ایسٹ-ویسٹ پائپ لائن کو نقصان پہنچنے کے بعد ریڈ سی کی بندرگاہ ینبع کے بجائے مشرقی ساحل پر واقع راس تنورہ بندرگاہ سے تیل کی برآمدات بڑھا دی ہیں۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے اور اس میں کشیدگی عالمی تیل کی منڈی کو براہ راست متاثر کرسکتی ہے۔ حالیہ دنوں میں اس راستے سے تیل کی ترسیل میں کچھ اضافہ رپورٹ ہوا ہے، تاہم خطے میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔