پاکستان نے افغانستان میں قائم افغان طالبان حکومت کے سامنے پاکستانی فضائی حدود کی مبینہ خلاف ورزی، سرحدی دراندازی اور افغانستان سے منسلک حالیہ دہشت گردی کے واقعات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرا دیا ہے۔ اس سلسلے میں افغان حکام کو ڈی مارش بھی حوالے کیا گیا ہے۔
سخت احتجاج
ذرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے افغان حکام کو دیا جانے والا ڈی مارش 23 ستمبر کو پیش آنے والے واقعات اور حالیہ سرحدی صورتحال کے تناظر میں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں :افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی قابل تشویش ، طالبان عالمی ذمہ داریاں پوری کریں ، اسحاق ڈار
پاکستانی حکام نے اپنے احتجاج میں افغانستان سے ہونے والی مبینہ سرحدی خلاف ورزیوں اور پاکستان میں رونما ہونے والے دہشت گردی کے واقعات پر تشویش سے آگاہ کیا۔
پاکستان نے افغان حکام پر واضح کیا کہ ملکی حدود میں دہشت گردی اور سرحدی خلاف ورزیوں کے واقعات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسلام آباد نے افغانستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔
فضائی حدود کا معاملہ
پاکستانی احتجاج میں فضائی حدود کی مبینہ خلاف ورزی کو بھی خصوصی طور پر اٹھایا گیا۔ حکام کی جانب سے افغان فریق کو بتایا گیا کہ پاکستان اپنی فضائی اور زمینی حدود کی خلاف ورزیوں کو سنجیدگی سے دیکھتا ہے اور ایسے واقعات کے تدارک کے لیے ضروری اقدامات کی توقع رکھتا ہے۔
دہشت گردی پر تشویش
ڈی مارش میں افغانستان سے مبینہ طور پر جڑے حالیہ دہشت گردی کے واقعات کا بھی حوالہ دیا گیا۔ پاکستان نے افغان حکومت سے کہا ہے کہ وہ ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کرے جو پاکستانی علاقے میں دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کر سکتے ہیں۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کی روک تھام کے لیے افغان حکام کو عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں :افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر پاکستان کا بڑا حملہ، 28 دہشت گرد ہلاک


