مہاجرین کی نشستوں کا مسئلہ صرف اسمبلی کے ذریعے ہی حل ہو سکتا ہے،رانا ثنا اللہ

مہاجرین کی نشستوں کا مسئلہ صرف اسمبلی کے ذریعے ہی حل ہو سکتا ہے،رانا ثنا اللہ

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ اگر کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے مظاہرین مسلح جتھوں کی صورت میں مظفرآباد کی جانب پیش قدمی کرتے ہیں تو ریاست انہیں ہر ممکن طریقے سے روکے گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پرامن احتجاج کے حق کو تسلیم کرتی ہے لیکن قانون ہاتھ میں لینے یا طاقت کے استعمال کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

ایک انٹرویو میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اگر مظاہرین راولاکوٹ میں دھرنا دے رہے ہیں تو حکومت کو اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ تاہم اگر وہ مسلح انداز میں مظفرآباد کی طرف بڑھنے کی کوشش کریں گے تو ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے انہیں روکنے کے لیے تمام قانونی اقدامات کرے گی۔

 یہ بھی پڑھیں :خواجہ آصف نے توہین نہیں کشمیریوں کو پنجاب کے قرار دے کر اپنائیت کا اظہار کیا،رانا ثناء اللہ

رانا ثناء ا للہ نے دھرنوں اور جھڑپوں کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کے حوالے سے کہا کہ ابھی حتمی تعداد بتانا ممکن نہیں۔ مظاہرین نے دو سے تین مرتبہ آگے بڑھنے کی کوشش کی جس پر سکیورٹی فورسز نے انہیں روکا۔ ان جھڑپوں میں دونوں جانب جانی نقصان ہوا تاہم سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا 400 افراد کی ہلاکت کا دعویٰ حقیقت پر مبنی نہیں بلکہ محض پروپیگنڈا ہے۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ علاقے میں سکیورٹی فورسز دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں اسی لیے میڈیا کو ہر مقام تک رسائی دینا ممکن نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ابتدائی احتجاج کرنے والے افراد دہشت گرد نہیں تھے بلکہ یہ سلسلہ 9 جون سے جاری ہے۔ ا نہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی جب احتجاج ہوئے تو حکومت نے مذاکرات کے ذریعے مطالبات تسلیم کیے اور مظاہرین نے پرامن انداز میں احتجاج ختم کر دیا تھا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارت کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی حمایت کر رہا ہے۔ اتنے بڑے پیمانے پر مالی وسائل کہاں سے آ رہے ہیں، اس بارے میں خدشات موجود ہیں اور حکومت کا خیال ہے کہ اس قسم کی فنڈنگ بھارت سے آ سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے تمام معلومات مناسب وقت پر متعلقہ فورمز پر پیش کی جائیں گی۔

 یہ بھی پڑھیں :مسلح لشکر کشی سے مظفر آباد پر قبضے کی اجازت نہیں دی جائے گی، رانا ثناء اللہ

رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ مہاجرین کی نشستوں کا مسئلہ صرف آزاد کشمیر اسمبلی کے ذریعے ہی حل ہو سکتا ہے۔ مہاجرین کو سیاسی عمل سے باہر کرنا تحریک آزادی کشمیر کے مؤقف کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ متعلقہ قیادت کو پہلے بھی مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ انتخابات میں حصہ لے کر اسمبلی کے اندر اپنے مطالبات پیش کریں۔

editor

Related Articles