امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے ک پہلے مرحلے میں آبنائے ہرمز کھولنے پر مذاکرات ہوں گے، دوسرے مرحلے میں ایران کے ایٹمی پروگرام پر بات ہوگی، ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے۔آبنائے ہرمز بھی جلد کھل جائے گی۔
لاس ویگاس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ مسائل کو جنگ کے بجائے سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ لوگوں کو مرتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتے اور اسی لیے ایران کے ساتھ ایک قابل قبول معاہدہ چاہتے ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ مجوزہ مذاکرات کے پہلے مرحلے میں آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے مکمل طور پر کھولنے پر توجہ دی جائے گی تاکہ عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل معمول پر آ سکے۔ دوسرے مرحلے میں ایران کے ایٹمی پروگرام اور اس سے متعلق خدشات پر تفصیلی بات چیت ہوگی۔
ٹرمپ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کا مؤقف بالکل واضح ہے اور ایران کو کسی بھی قیمت پر ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔ دونوں ممالک سفارتی ذرائع سے اتفاق رائے تک پہنچتے ہیں تو خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے اور عالمی منڈیوں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
امریکی صدر کے اس بیان کو ایسے وقت میں اہم قرار دیا جا رہا ہے جب مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر مذاکرات میں پیش رفت ہوتی ہے تو اس سے نہ صرف خطے میں استحکام آ سکتا ہے بلکہ عالمی توانائی کی منڈی میں بھی غیر یقینی صورتحال میں کمی آنے کا امکان ہے۔