صوبائی حکومت نے محنت کش طبقے کے لیے بڑے ریلیف کا اعلان کر دیا

صوبائی حکومت نے محنت کش طبقے کے لیے بڑے ریلیف کا اعلان کر دیا

سندھ حکومت نے محنت کش طبقے کے لیے اہم ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے کم از کم ماہانہ اجرت 43 ہزار روپے مقرر کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

صوبائی کابینہ نے مزدوروں کی تنخواہوں میں 7.5 فیصد اضافے کی منظوری دی جس کے بعد نئی اجرتوں کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں محنت کشوں کی اجرتوں میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی دباؤ کے پیش نظر مزدور طبقے کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :مہنگائی کے ستائے عوام کو بڑا ریلیف، مٹی کا تیل سستا ہو گیا

وزیراعلیٰ سندھ کے ترجمان کے مطابق غیر ہنر مند مزدور کی کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 43 ہزار روپے مقرر کر دی گئی ہے۔ اسی طرح نیم ہنر مند، ہنر مند اور اعلیٰ ہنر مند کارکنوں کی تنخواہوں میں بھی متناسب اضافہ کیا گیا ہے تاکہ مختلف شعبوں میں کام کرنے والے ملازمین کو یکساں فائدہ پہنچ سکے۔

کابینہ کے فیصلے کے تحت نئی اجرتوں کا اطلاق سندھ بھر کے تمام نوٹیفائیڈ صنعتی، تجارتی اور کاروباری اداروں پر ہوگا۔ متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ کم از کم اجرت کے قانون پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ محنت کش کسی بھی معیشت کی بنیاد ہوتے ہیں اور سندھ حکومت ان کے حقوق کے تحفظ اور معاشی فلاح کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ مزدوروں کو بہتر روزگار، مناسب اجرت اور محفوظ کام کا ماحول فراہم کیا جائے تاکہ ان کا معیار زندگی بہتر ہو سکے۔

 یہ بھی پڑھیں :گلگت بلتستان کے عوام کو بڑا ریلیف ، ایک لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن گندم ، 22 ارب کی سبسڈی جاری

کابینہ اجلاس میں مزدوروں کی فلاح کے علاوہ صحت، انصاف اور دیگر عوامی شعبوں سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی بھی منظوری دی گئی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنا اور صوبے میں سماجی و معاشی ترقی کے عمل کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

editor

Related Articles